متحدہ عرب امارات

’کیا آپ بادشاہ ہیں؟‘ یو اے ای کے یوتھ ایمبیسیڈر نے جاپان کے ایکسپو 2025 میں غلط فہمیاں دور کر دیں

خلیج اردو
دبئی: "کیا آپ بادشاہ ہیں؟” یہ ان سوالات میں سے ایک ہے جو اکثر جاپان کے ایکسپو 2025 اوساکا میں متحدہ عرب امارات کے پویلین کے یوتھ ایمبیسیڈر موسیٰ الزعابی سے پوچھے جاتے ہیں۔ زیادہ تر جاپانی زائرین جب ان کے سامنے آتے ہیں تو روایتی لباس، ثقافت اور طرزِ زندگی کے بارے میں تجسس ظاہر کرتے ہیں، اور الزعابی ان سب کا خوش دلی سے جواب دیتے ہیں۔

الزعابی کا کہنا ہے کہ، "اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے، لیکن ساتھ ہی ایک اعزاز بھی۔ آپ ہی وہ پہلا چہرہ ہوتے ہیں جس سے لوگ آپ کے ملک کے بارے میں پہلا تاثر لیتے ہیں، اور یہی موقع ہوتا ہے اپنی ثقافت، تاریخ اور شناخت سے روشناس کرانے کا۔”

زائرین اکثر ان کے لباس کو دیکھ کر پوچھتے ہیں: "کیا آپ بادشاہ ہیں؟”، یا ان کے خنجر کو ہتھیار سمجھ بیٹھتے ہیں۔ الزعابی وضاحت کرتے ہیں کہ گُترہ، اگال، اور خنجر جیسے عناصر صرف ثقافتی اور رسمی اہمیت رکھتے ہیں، نہ کہ کوئی درجہ یا طاقت کی علامت۔

ان کا کہنا ہے، "لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارا لباس گرمی میں بہت بھاری ہوتا ہے، حالانکہ یہ ڈھیلا، ہوا دار اور موسمِ گرما کے لیے بہت موزوں ہے۔”

الزعابی ان زائرین کو بھی غلط فہمی سے نکالتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات صرف دبئی اور ابوظہبی پر مشتمل ہے، اور باقی امارات آزاد ممالک ہیں۔ وہ اس موقع کو UAE کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

جاپانی زبان میں مہارت رکھنے والے الزعابی نے بتایا کہ انہوں نے اسکول کے زمانے میں اینیمے سے دلچسپی کے باعث جاپانی زبان سیکھنے کا آغاز کیا اور تین سالہ کورس مکمل کیا۔ اس مہارت کی بدولت وہ مقامی زائرین سے براہِ راست بات چیت کر کے ان کے سوالات کا مؤثر جواب دے پاتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں خوشبو پیش کرنا مہمان نوازی کا حصہ ہے، لیکن جاپان میں اسے سمجھانے کے لیے وضاحت درکار ہوتی ہے تاکہ یہ تاثر نہ ملے کہ یہ کسی بدنما مقاصد کے تحت کیا جا رہا ہے۔

روزانہ ان کے تجربات منفرد ہوتے ہیں۔ ایک بار ایک کم عمر لڑکی نے ان کے ساتھ تصویر بنوائی، اور تھوڑی دیر بعد ایک چھوٹے پرنٹر سے وہ تصویر چھاپ کر واپس لا کر تحفے میں دی، جو ان کے لیے ایک ناقابلِ فراموش لمحہ تھا۔

الزعابی جاپانی طلبہ کے گروپس کی بھی میزبانی کرتے ہیں، اور ایک دلچسپ موقع اس وقت آیا جب ایک بچہ ابوظہبی کے سمندری حیات پر گفتگو کے دوران مسلسل ’گائے‘ کا لفظ استعمال کرتا رہا، اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ’ڈوگونگ‘ (sea cow) کی بات کر رہا تھا۔

ایکسپو 2025 کے اختتام کے بعد الزعابی یو اے ای واپس چلے جائیں گے، لیکن ان کا عزم ہے کہ وہ دنیا کے جس کونے میں بھی جائیں، اپنے ملک کی ثقافت، تاریخ اور روایات کو متعارف کرانے کا مشن جاری رکھیں گے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button