متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں بڑھتے ٹریفک کے باعث شہری دفاتر کے قریب رہائش اختیار کرنے لگے، کرایوں میں اضافہ

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں ٹریفک بڑھنے کے باعث شہری اپنی ملازمت کے مقامات کے قریب رہائش اختیار کرنے لگے ہیں، جس کی وجہ سے کرایوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کئی ملازمین نے روزانہ کے طویل سفر اور کام و زندگی کے توازن کے مسائل سے بچنے کے لیے اپنی رہائش گاہ تبدیل کی ہے۔

شارجہ کے رہائشی تھمجید محمد صدیق نے بھی وقت بچانے اور خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کے لیے الورقاء منتقل ہونے کا فیصلہ کیا، لیکن اس کے نتیجے میں کرایہ دگنا سے بھی زیادہ بڑھ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے روزانہ دفتر آنے جانے میں دو گھنٹے سے زائد لگ جاتے تھے، مگر اب یہ سفر صرف 20 سے 30 منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے، اگرچہ کرایہ 42 ہزار درہم سے بڑھ کر 90 ہزار درہم ہو گیا۔

ریئل اسٹیٹ اور ریکروٹمنٹ انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں ملازمین میں ترجیحات بدل رہی ہیں اور وہ لمبے سفر کے بجائے وقت کو زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں۔ ٹریفک میں اضافہ اسکول کھلنے اور گرمیوں کی چھٹیوں سے واپسی کے بعد مزید بڑھ گیا ہے۔

ٹی اے ایس سی گروپ کے یو اے ای کنٹری ہیڈ پیڈرو لاسیرڈا کے مطابق ملازمین اب اس بات کے زیادہ شعور میں ہیں کہ وقت کی بچت ان کی پیداواریت اور خاندانی زندگی کے لیے کتنی اہم ہے۔ بہت سے لوگ اب یا تو رہائش دفتر کے قریب اختیار کر رہے ہیں یا کار پولنگ اور رائیڈ شیئرنگ کے ذریعے اخراجات کم کرنے اور ذہنی دباؤ کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

میٹروپولیٹن پریمیئم پراپرٹیز کی اسویتلانا وسیلیوا نے کہا کہ شہری اب ایسی رہائش گاہوں کو ترجیح دے رہے ہیں جو دفاتر اور اسکولز کے قریب ہوں۔ ان کے مطابق دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (ڈی آئی ایف سی) میں کام کرنے والے کئی افراد اب اسی علاقے یا ڈاؤن ٹاؤن میں رہائش اختیار کر رہے ہیں تاکہ ٹریفک کے جھنجھٹ سے بچ سکیں۔

ابوظہبی میں صورتحال مختلف ہے جہاں جدید انفراسٹرکچر اور سڑکوں کا نیٹ ورک اضافی ٹریفک کو بھی سہولت سے سنبھال سکتا ہے۔ میٹروپولیٹن کیپیٹل ریئل اسٹیٹ کے سی ای او ایوگنی رٹسکیوچ نے کہا کہ ابوظہبی میں دفتر کے قریب رہائش اختیار کرنا محض آمدورفت کم کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ معیار زندگی میں بہتری کی علامت ہے، جہاں اعلیٰ درجے کے اسکولز، پرکشش رہائشی منصوبے، ریٹیل اور تفریحی سہولیات بآسانی دستیاب ہیں۔

ماہرین کے مطابق دبئی اور ابوظہبی جیسے بڑے شہروں میں رہائشی ترجیحات تیزی سے بدل رہی ہیں، اور شہری سہولت، وقت کی بچت اور معیار زندگی کو ترجیح دیتے ہوئے زیادہ کرایہ ادا کرنے پر بھی تیار ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button