
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کے اسکولز نے نئے تعلیمی سال میں آئی پیڈز اور دیگر ڈجیٹل ڈیوائسز کے استعمال پر سخت ضابطے نافذ کر دیے ہیں۔ طلبہ کی جانب سے کسی بھی قسم کی غلط استعمال کی صورت میں فوری طور پر سہولت واپس لے لی جاتی ہے۔ اسکولز کے سربراہان کا کہنا ہے کہ تیز رفتار ٹیکنالوجی کے دور میں پالیسیوں کو مسلسل اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے تاکہ تعلیم کے فوائد کے ساتھ ساتھ آن لائن خطرات سے بھی نمٹا جا سکے۔
25 اگست کو موسم گرما کی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھلے جہاں دس لاکھ سے زائد طلبہ نے نئی مدت کا آغاز کیا۔
جی ای ایم ایس ویلنگٹن انٹرنیشنل اسکول کے پرنسپل اینڈریو جینکنز نے بتایا کہ طلبہ کو شروع سے ہی واضح کر دیا جاتا ہے کہ کون سا آلہ استعمال کیا جا سکتا ہے اور یہ سب کچھ استاد کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول میں کمیونل ایریاز جیسے وقفہ اور لنچ کے دوران "نو ڈیوائس پالیسی” ہے اور کسی بھی قسم کی غلط استعمال پر ڈیوائس استعمال کرنے کا حق ختم کر دیا جاتا ہے۔
کئی اسکولوں نے والدین کے تعاون سے نئی پالیسیوں کا نفاذ کیا ہے۔ دبئی انٹرنیشنل اکیڈمی ایمیریٹس ہلز نے والدین کے لیے سرکلر میں واضح کیا کہ پرائمری میں کوئی اسمارٹ واچ یا اسمارٹ فون کی اجازت نہیں، آئی پیڈ پر میسجنگ پر پابندی ہوگی اور والدین کو بچوں کے لیے ایپ ریسٹرکشنز پر دستخط کرنا ہوں گے۔ سرکلر میں کہا گیا کہ "یاد رکھیں انسٹنٹ میسجنگ سے پہلے بھی زندگی موجود تھی۔”
ووڈلم ایجوکیشن نے "ٹریفک سگنل سائبر پالیسی” متعارف کرائی ہے جس کے تحت تین مراحل ہیں: گرین (زبانی تنبیہ اور والدین کو اطلاع)، اورنج (ایکسٹرا کرکولر ایکٹیویٹی سے معطلی اور ریفلیکشن ٹائم) اور ریڈ (ڈیوائس ضبط اور اسکول سے معطلی)۔
ابوظہبی کے شائننگ اسٹار انٹرنیشنل اسکول کی پرنسپل ابھیلاشا سنگھ نے بتایا کہ ان کے ہاں "برنگ یور اون ڈیوائس (BYOD)” پالیسی سختی سے نافذ ہے۔ والدین کو تحریری طور پر آگاہ کیا جاتا ہے کہ ڈیوائس صرف تعلیم کے لیے ہے اور کسی بھی غلط استعمال پر آلہ ضبط کر لیا جائے گا جو صرف ٹرم کے اختتام پر واپس ملے گا۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اسکولز کا مقصد بچوں میں نظم و ضبط اور ذمہ داری پیدا کرنا ہے تاکہ وہ محفوظ ڈیجیٹل ماحول میں سیکھنے کے عمل کو جاری رکھ سکیں۔






