
خلیج اردو
بھارتی پولیس نے معروف بولی وڈ اداکار سونو سود اور سابق ڈبلیو ڈبلیو ای ریسلر گریٹ کھلی کو ملٹی ملین ڈالر بلوچپ انویسٹمنٹ اسکینڈل میں طلب کر لیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق دبئی میں قائم بلوچپ گروپ کی تحقیقات کے دائرہ کار میں توسیع کے بعد دونوں شخصیات کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ یہ کمپنی رواں سال اپنی اچانک بندش اور سرمایہ کاروں کے غائب شدہ رقوم کے باعث منظرعام پر آئی تھی، جس کا انکشاف سب سے پہلے خلیج ٹائمز نے کیا تھا۔
چھ رکنی ایس آئی ٹی کی سربراہ اے ڈی سی پی انجلی وِشوکرما کے مطابق دونوں شخصیات کو بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ سونو سود نے خلیج ٹائمز سے گفتگو میں تصدیق کی کہ انہیں پولیس کی جانب سے رابطہ کیا گیا ہے اور وہ مکمل تعاون کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کمپنی میں سرمایہ کاری نہیں کی بلکہ وہ خود بھی رقم کے واجبات کے باعث "متاثرہ فریق” ہیں۔
پولیس کے مطابق تفتیش میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا کسی سیلیبرٹی نے باضابطہ طور پر کمپنی کی تشہیر کی، کسی کنٹریکٹ پر دستخط کیے، یا کمپنی کے مالیاتی دعوؤں سے متعلق آگاہی رکھی۔ اس سلسلے میں 2022 میں دبئی کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں بلوچپ ٹوکن کی شاندار لانچ تقریب کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، جس میں سونو سود، گریٹ کھلی اور سابق بھارتی کرکٹ کپتان محمد اظہرالدین بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے تھے۔
تفتیش کاروں نے سونی کے مختلف عوامی تقریبات میں مشہور شخصیات کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز کا بھی جائزہ شروع کر دیا ہے، جن میں سونی اور سونو سود کی دبئی ملاقات اور بلوچپ کے دفتر میں کیک کاٹنے کی ایک ویڈیو بھی شامل ہے۔ پولیس نے واضح کیا کہ ایسی تصاویر صرف کمپنی کے تشہیری طریقہ کار کو سمجھنے کے لیے دیکھی جا رہی ہیں اور یہ کسی بھی سیلیبرٹی کی غلط کاری کا ثبوت نہیں ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کمپنی کے مالک رویندر ناتھ سونی کو 18 ماہ بعد گزشتہ ماہ گرفتار کیا گیا جب پولیس نے ایک فوڈ ڈیلیوری آرڈر کے ذریعے اس کا پتہ چلا لیا۔ سونی دبئی میں ادائیگیوں میں ناکامی کے کیسز میں بھی مطلوب ہے۔ تفتیش کے دوران 26 بھارتی بینک اکاؤنٹس، 8 کرپٹو والیٹس اور 20 کمپنیوں کا سراغ لگایا گیا ہے جن میں سے چار غیر فعال ہیں۔
اب تک پولیس کو 700 سے زائد متاثرین کی ای میلز موصول ہو چکی ہیں اور ابتدائی تخمینہ تقریباً 400 ملین درہم کے غبن کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم حکام کے مطابق یہ رقم مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ بعض شکایات میں سیلیبرٹی روابط کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن کی مکمل طور پر تحقیقات کی جائیں گی۔







