متحدہ عرب امارات

کورونا وائرس : کیا کورونا ویکسین لگوانے والوں کو بھی قرنطینہ کی ضرورت پڑتی ہے؟

خلیج اردو
15 فروری 2021
ابوظبہی : متحدہ عرب امارات میں ڈاکٹروں نے ان صحت مند افراد کیلئے بھی قرنطینہ کی سفارش کی ہے جو کورونا وائرس سے صحت یاب ہو گئے ہیں کیونکہ قرنطینہ سے کورونا وائرس کا سب بننے والے SARS-CoV-2 کا تدارک کیا جا سکتا ہے۔

یہ بیان ڈاکٹروں نے امریکہ کے سنٹر آف ڈیزیز کنٹرول سی ڈی سی کی جانب سے جاری ایک بیان کے ردعمل میں دیا ہے۔ سی ڈی سی نے بتایا تھا کہ جن افراد نے کورونا وائرس کے حفاظتی ٹیکے لگوائیے ہیں انہیں قرنطینہ کی ضرورت نہیں ہے۔ متحدہ عرب امارات کے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ ملک میں ریگولیٹری حکام کی منظوری کے بغیر اس اعلان کی تعمیل یا توثیق نہیں کی جاسکتی ہے۔

ایسٹر عجمان میں ماہر ڈاکٹر پرشانت سی کے نے کہا ہے کہ سی ڈی سی کی ہدایات کو بغیر تصدیق کے ہوبہو لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا فیصلہ ریگولیٹری حکام کو کرنے کی ضرورت ہے۔ سی ڈی سی نے اس سے منظور شدہ ویکسین کی افادیت کی بنیاد پر رہنمائی کی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہاں کے حکام متحدہ عرب امارات میں دستیاب ویکسین کی افادیت کی بنیاد پر مستقبل میں فیصلہ ایسا ہی کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا اس بات غور کیا جا سکتا ہے جب ایک بار متحدہ عرب امارات میں کورونا کیسز میں کمی آجائے کیونکہ یہ متحدہ عرب امارات ہے جہاں کورونا ویکسین کی افادیت باقی کے مقابلے میں زہادہ ہے۔ دوسرے ممالک کے مقابلے میں یہاں عام طور پر اقدامات پر عمل پیرا ہونا بہتر رہا ہے۔ بظار ایسا لگتا ہے ایسے لوگوں میں کورونا وائرس کا خطرہ کم ہوتا ہے جن کو ویکسین کی مکمل خوراک مل گئی ہے۔ اسی کے مطابق وائرل بوجھ اور ٹرانسمیشن کا خطرہ بھی کم ہونے کا امکان ہے۔

دبئی میں پرائم میڈیکل سنٹر کی موٹر سٹی برانچ کے فیملی فزیشن ڈاکٹر نواس ابوبکر نے نے اس حوالے سے تبصرے میں کہا ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ ہمارے لئے خوشخبری ہے ، خاص طور پر اس وجہ سے کہ یہ قرنطینہ کا بوجھ کم کردے گی۔ تاہم ضروری ہے کہ اس پر عمل درآمد کرنے سے قبل مزید اعداد و شمار کا انتظار کیا جائے کیونکہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ وہ افراد جو کورونا ویکسین لگوانے کے بعد بھی وائرس سے متائثر ہوئے ہیں ، دوسروں کو بھی وائرس منتقل کرسکتے ہیں یا نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ سی ڈی سی کے احکامات کو تب تک لاگو کرنا درست نہیں ہوگا جب ملک کی 60 فیصد آبادی کو کورونا کی دو خوراکیں لگوائی جائے۔ فی الحال متحدہ عرب امارات کے شہریوں کو یہ مشورہ ہے کہ کسی شخص کے کورونا سے متاثرہ شخص کے ساتھ رابطے میں آنے کے بعد ان کو قرنطینہ سے گزرنا چاہئے یا زیادہ سے زیادہ احتیاط برتنی چاہیے.

میڈیر اسپتال دبئی کے اندرونی طب کے ماہر ڈاکٹر ابنیر ابیجو نے کہا ہے کہ ویکسینیشن کے بعد اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ لوگوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو۔ ۔ ہم سب کو محفوظ رہنے کیلئے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا چاہئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ویکسینیشن کے بعد بھی کوئی شخص وائرس لے کر دوسروں کو متاثر کرسکتا ہے۔

Soure : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button