متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں 10 دنوں کا لازمی قرنطینہ کیے جانے سے متعلق خصوصی احکامات جاری ، تمام ممکنہ سوالات اور اس کے جوابات

خلیج اردو
11 فروری 2021
دبئی : دبئی ہیلتھ اتھارٹی نے کورونا وائرس سے متائثرہ افراد کے ساتھ میل جول کرنے والے افراد کیلئے لازمی قرار دیا ہے کہ وہ 10 دنوں کے لازمی قرنطینہ عمل کا حصہ ہوں گے۔ وہ تمام افراد جنہوں نے کورونا وائرس کے مریض کے ساتھ 15 منٹ یا اس سے زیادہ کا وقت گزارا ہو اور ان کے درمیان 2 میٹر کا سماجی فاصلہ نہ رہا ہو ۔ مریض کے ساتھ ملنے کے بعد سے 10 دنوں کیلئے قرنطینہ کیا جائے گا۔

ڈاکٹر ہند الوادھی جو ڈی ایچ اے میں صحت اور تعلیم سے متعلق ترویج کے سربراہ ہیں ، کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے ساتھ نزدیکی روابط پر 10 دنوں کیلئے قرنطینہ کیا جائے گا۔ وہ افراد جنہیں کوئی علامات نہ بھی ہوں وہ بھی قرنطینہ میں رہیں گے کیونکہ ممکنات میں سے ہے کہ وہ متائثر ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی کا کورونا ٹیسٹ منفی آئے لیکن اسے ٹیسٹ کیلئے نمونے دینے کے بعد کورونا ہوا ہے اسی لیے واحد حل یہ ہے کہ وہ شخص قرنطینہ میں چلا جائے۔

10 دنوں کا قرنطینہ دورانیہ گزارنے کے بعد ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہے اگر آپ کو علامات نہیں ہوں۔ اگر قرنطینہ کے وقت کسی طرح کے بھی علامات ظاہر ہو جائیں تو انہیں کورونا کا پی سی آر ٹیسٹ کرانا چاہیئے۔ اگر ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آتا ہے تو انہیں گھروں میں یا اداروں میں خود کو الگ رکھنا پڑے گا اور اگر ان کا نتیجہ منفی ہو تو بھی انہیں قرنطینہ کا 10 دنوں کا دورانیہ پورا کرنا ہوگا۔

ایسے افراد جو کورونا کے مریض کے ساتھ میل جول سے رہے ہوں ، انہیں اپنے خاندان کے لوگوں اور رشتہ داروں کو بھی بتانا چاہئے کہ وہ کسی مریض کے قریب رہے ہیں اور ایسے میں ان سے دور رہا جائے تاکہ مزید لوگوں کو تکلیف میں نہ ڈالا جائے۔

ڈاکٹر الوادھی نے اس بات پر زور دیا کہ گھر میںقرنطینہ ہونے والوں سے مہمانوں کو نہیں ملنا چاہئے کیونکہ قرنطینہ ہونے کا مقصد ہی یہ ہے کہ دوسروں کے مضر اثرات سے خود کو اور دوسروں کو اپنے سے لاحق خطرات سے بچایا جا سکے۔ اس حوالے سے قرنطینہ کیے جانے کے دو اقسام ہیں۔ ایک گھر پر قرنطینہ کیے جانا جس میں ایک شخص اپنی رہائش گاہ پر حالات کو موافق پانے کے بعد خود کو قرنطینہ کرتا ہے اور عوماً گھروں پر قرنطینہ ہونے والے وہ افراد ہوتے ہیں جن میں علامات کم ہوں۔

دوسری قسم کے قرنطینہ کیے جانے کی وہ ہے جہاں کوئی شخص کسی ادارے میں خود کو کسی ادارے میں قرنطینہ کرے۔ یہ اس صورت میں ہوتا ہے جب کسی گھر پر قرنطینہ کے حالات موافق نہ ہو۔ ایسی صورت میں قرنطینہ کیے جانا ایک لازمی امر ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ گھر میں قرنطینہ کیے جانے کی صورت میں کچھ شرائط اور تقاضے موجود ہیں۔ یہ بات گھر پر یقینی بنائی جائے کہ گھر پر وہ دیگر افراد سے میل جول نہ کرے اور ان کی اشیاء کو کوئی استعمال نہ کرے۔

گھر پر ضروری ہے کہ قرنطینہ ہونے والے افراد کیلئے علیحدہ کمرہ اور باتھ روم ہو۔ صحت سے متعلق مستحکم حالت میں قریبی رابطہ ہونا چاہئے۔ ایک فون نمبر جو ایکٹیو ہو اور گھر والے اس سے رابطہ کر سکتے ہوں۔

قرنطینہ ہونے والے شخص کے پاس فرسٹ ایڈ باکس ہونا چاہیے۔
متعلقہ شخص کو ویسٹ منجمنٹ سے متعلق معلومات ہونے چاہیے۔ اپنے آپ کا خیال رکھنے سے متعلق علم ہونا بھی ضروری ہے۔
یہ بھی اہم ہے کہ اس گھر میں کوئی معمر شخص نہ ہو یا کوئی ایسا شخص جس کو مہک بیماریاں ہوں۔

دبئی ہیلتھ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ افراد جن میں رسک زیادہ ہو، انہیں متعلقہ گھر میں نہیں ہونا چاہیے۔ دونوں صورتوں میں اگر اس گھر میں کورونا کا مریض قرنطینہ میں ہو یا مریض سے رابطہ قائم کرنے والا رابطے میں ہو۔ ہائی رسک والے افراد میں ساٹھ سال سے اوپر کے افراد ، مہلک امراض میں مبتلا افراد ، خصوصی افراد اور زیادہ عرصہ کیئر سنٹرز میں کام کرنے والے افراد شامل ہیں۔

ایسے افراد جو مریضوں کے قریبی رابطے میں رہے ہوں انہیں بازار جاکر خریداری سے اجتناب کرنا چاہیے۔ انہیں ضروری اشیاء گھروں میں انلائن اسٹورز سے خریدنے چاہیے یا وہ کسی سے کہہ کر اپنے لئے شاپنگ کرا سکتے ہیں۔ ایک بار جب وہ چیزیں گھر پہنچے تو انہیں اشیاء استعمال کرنے سے قبل سیناٹاہیز کرنے چاہیے۔

ڈاکٹر الوادھی کا کہنا ہے کورونا سے متائثرہ افراد کے رابطے میں رہنے والوں کو ویکسیشن کا عمل تب تک کیلیے مؤخر کرنا چاہیے جب تک وہ قرنطینہ میں ہو اور انہیں یہ بھی یقینی بنایا چاہیے کہ ان میں گزشتہ تین دن سے کورونا کے علامات نہیں ہیں۔ ایسے افراد اگر طبی مقاصد کیلیے ڈاکٹر سے ملنا چاہتے ہوں تو انہیں قرنطینہ کے دنوں کا انتظار کرنا چاہیے جب تک کوئی ایمرجنسی نہ ہو۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر کورونا کے انسداد کیلیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کو لازمی قرار دیا اور ان کا کہنا تھا کہ احتیاط ہی واحد طریقہ علاج ہے ۔عوام ماسک پہنے ، سماجی فاصلہ برقرار رکھیں ، باقاعدگی سے سیناٹائزیشن کو یقینی بنائیں اور سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button