متحدہ عرب اماراتپاکستانی خبریں

متحدہ عرب امارات: پاک بھارت کشیدگی کے باعث کئی رہائشیوں نے بھارت، پاکستان کے سفری منصوبے منسوخ کر دیے

خلیج اردو
دبئی — بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر متحدہ عرب امارات میں مقیم متعدد افراد نے اپنے گرمیوں کے چھٹیوں کے سفری منصوبے ملتوی یا منسوخ کر دیے ہیں، خاص طور پر ان افراد نے جو اپنے آبائی علاقوں بھارت اور پاکستان جانا چاہتے تھے۔

یہ صورتحال 22 اپریل کو پہلگام حملے کے بعد پیدا ہوئی ہے، جس کے بعد بھارت نے پاکستانی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود 23 مئی تک بند کر دی ہیں، جبکہ پاکستان پہلے ہی بھارتی ایئرلائنز پر فضائی حدود کے استعمال پر پابندی عائد کر چکا ہے۔

دبئی میں مقیم ہارپریت سنگھ، جو ایک پلاسٹک فیکٹری میں سیلز مینیجر کے طور پر کام کرتے ہیں، نے کہا کہ وہ امرتسر جانے کا منصوبہ بنا رہے تھے لیکن کشیدہ صورتحال اور پروازوں میں تعطل کے باعث انہوں نے یہ منصوبہ منسوخ کر دیا۔

انہوں نے کہا: "میں طویل عرصے بعد اپنے خاندان سے ملنے کا منتظر تھا، لیکن جو کچھ ہو رہا ہے، اس ماحول میں خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہا۔ کئی پروازیں پہلے ہی منسوخ یا متبادل راستوں پر منتقل ہو چکی ہیں۔”

اسی طرح دبئی میں مقیم دانیال خان، جو کراچی کے لیے باقاعدہ سفر کرتے ہیں، نے کہا کہ انہیں فضائی خلل کی فکر لاحق ہے، خاص طور پر اگر فضائی پابندیاں مکمل سفری بندش میں بدل گئیں تو صورتحال مزید پریشان کن ہو جائے گی۔

ابو الحسن، جو عید الاضحی سے قبل پاکستان کا سفر کرنا چاہتے ہیں، نے کہا کہ وہ فی الحال اپنا سفر روک کر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ واپسی میں کسی ممکنہ دشواری سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا: "میں اس وقت تک ٹکٹ نہیں خریدوں گا جب تک صورتحال واضح نہ ہو جائے۔”

ہنہ، ایک کشمیری صحافت کی طالبہ جو لندن میں مقیم اور یو اے ای گولڈن ویزا ہولڈر ہیں، نے بتایا کہ وہ سری نگر میں اپنے خاندان سے ملنے گئی تھیں لیکن موجودہ صورتحال کے باعث وہاں پھنس کر رہ گئی ہیں۔ ایئر انڈیا کی جانب سے انہیں مفت ری شیڈیولنگ اور مکمل رقم واپسی کی پیشکش کی گئی ہے، لیکن وہ فیصلہ نہیں کر پا رہیں کہ کیا کریں۔

کشمیر میں مقامی افراد بھی شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ ہنہ نے کہا: "ہم گھروں سے باہر نہیں جا رہے۔ ہر بار جب کشیدگی بڑھتی ہے تو خوف چھا جاتا ہے، اور سب سے زیادہ متاثر ہمیشہ عام شہری ہی ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button