متحدہ عرب امارات

دبئی: ہوٹل سے منظم بھکاری گروہ چلانے پر 41 سیاح گرفتار

خلیج اردو
دبئی:دبئی پولیس نے 41 عرب نژاد افراد کو منظم بھیک مانگنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ یہ افراد سیاحتی ویزوں پر متحدہ عرب امارات میں داخل ہوئے تھے اور ایک ہوٹل میں مقیم تھے جسے انہوں نے اپنے منظم نیٹ ورک کا مرکز بنا رکھا تھا۔

پولیس کے مطابق ان کے قبضے سے 60 ہزار درہم سے زائد رقم برآمد ہوئی ہے۔ یہ گرفتاریاں جنرل ڈیپارٹمنٹ آف کریمنل انویسٹی گیشن کے "مشتبہ افراد و جرائماتی رجحانات” کے شعبے کی جانب سے "المسباح” (جس کا مطلب ہے ’تسبیح‘) کے نام سے ایک ہدفی سیکیورٹی آپریشن کے دوران عمل میں آئیں۔

یہ کارروائی 901 کال سینٹر پر موصول ہونے والی ایک شکایت کے بعد شروع کی گئی، جس میں اطلاع دی گئی تھی کہ کچھ افراد تسبیح اور دیگر مذہبی اشیاء بیچتے ہوئے بھیک مانگ رہے ہیں۔

مانیٹرنگ اور تجزیاتی سیکشن نے موقع پر نگرانی کی اور تین عرب افراد کو عوام سے بھیک مانگتے اور اشیاء فروخت کرتے دیکھا، جس پر فوری طور پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

تفتیش کے دوران ان افراد نے ایک بڑے منظم بھکاری گروہ کا حصہ ہونے کا اعتراف کیا۔ پولیس نے ہوٹل انتظامیہ سے رابطہ کر کے مزید 28 افراد کو اسی قومیت سے گرفتار کیا، جبکہ اگلے روز 10 مزید افراد اس ہوٹل سے روانگی کی کوشش کے دوران دھر لیے گئے۔

تمام گرفتار شدگان نے ایک منظم بھکاری گروہ کے طور پر کام کرنے کا اعتراف کیا، جنہیں قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

احتیاطی اقدامات

دبئی پولیس نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ صرف رجسٹرڈ فلاحی اداروں اور سرکاری چینلز کے ذریعے ہی عطیات دیں تاکہ امداد مستحقین تک صحیح طریقے سے پہنچ سکے۔

پولیس نے کمیونٹی کے افراد سے اپیل کی ہے کہ اگر وہ کسی کو بھیک مانگتے دیکھیں تو فوراً 901 پر کال کریں، دبئی پولیس کے اسمارٹ ایپ میں موجود "پولیس آئی” فیچر استعمال کریں، یا ای کرائم پلیٹ فارم کے ذریعے آن لائن رپورٹ کریں۔

حکام کی جانب سے سالانہ ’کمبیٹ بیگنگ‘ مہم بھی جاری ہے جس کا مقصد ملک بھر میں بھکاریوں کی تعداد میں کمی لانا ہے۔ اس سیکیورٹی منصوبے میں ایسے علاقوں میں پولیس گشت میں اضافہ شامل ہے جہاں بھیک مانگنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ اکثر بھکاری مذہبی مواقع اور تعطیلات کو ہمدردی کے جذبات ابھارنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور یہ ایک مجرمانہ عمل ہے جو متحدہ عرب امارات کے قانون کے تحت قابل سزا جرم ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button