عالمی خبریں

دبئی میں مقیم شخص پر بھارت میں بھتیجیوں کے قتل کی سازش کا الزام

خلیج اردو
دبئی:بھارت کی ریاست اترپردیش میں دو کمسن بہنوں کے بہیمانہ قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ افراد کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد، دبئی میں مقیم ایک شخص پر قتل کی سازش رچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جو اب بھی قانون کی گرفت سے باہر ہے۔

ہاتھرس میں قائم ایک خصوصی عدالت نے رواں ہفتے 13 سالہ شریشتی اور 7 سالہ ودھی کے قتل کے جرم میں وکاس اور لالو پال کو سزائے موت سنائی۔ یہ قتل رواں سال کے اوائل میں اس وقت ہوا جب دونوں بچیاں اپنے گھر میں سو رہی تھیں، جبکہ ان کے والدین بھی اس حملے میں شدید زخمی ہوئے۔

متاثرہ لڑکیوں کی والدہ، ویرانگنا سنگھ نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اصل سازشی اب بھی دبئی میں آزاد گھوم رہا ہے۔ "عدالت نے میری بیٹیوں کے قاتلوں کو سزائے موت دی ہے، میں فیصلے کا احترام کرتی ہوں۔ لیکن اصل سازشی اب بھی دبئی میں ہے، پولیس ابھی تک اسے واپس نہیں لا سکی۔”

عدالتی ریکارڈ کے مطابق، قتل کی منصوبہ بندی مبینہ طور پر دوبئی میں مقیم مقتولہ بچیوں کے چچا، چھوٹے لال گوتم، جو ان کے والد کے کزن بھی ہیں، نے کی تھی۔

تحقیقات کے دوران مجرم وکاس نے پولیس کو بتایا کہ قتل کا حکم دوبئی میں مقیم اس چچا نے دیا تھا، جو وراثتی زمین کے تنازع پر نالاں تھا۔ چونکہ چھوٹے لال گوتم کے کوئی بیٹے نہیں تھے، اس لیے ان کے کزن کو خدشہ تھا کہ وہ جائیداد میں اپنا حصہ کھو دے گا۔ اسی خوف کے تحت اس نے پورے خاندان کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران 12 گواہوں نے شہادت دی، اور عدالت نے 26 مئی کو دونوں مجرموں کو مجرم قرار دیا۔ صرف دو دن بعد، بدھ کی صبح سزا سنائی گئی، اور جج نے محض 10 منٹ میں سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button