متحدہ عرب امارات

دبئی میں سونے کی طلب میں کمی، خریداروں نے مہنگے زیورات خریدنے سے گریز کیا

خلیج اردو
دبئی: دبئی اور متحدہ عرب امارات میں سونے اور زیورات کے خریداروں نے تاریخی بلند ترین قیمتوں کے باعث غیر ضروری خریداری روک دی ہے اور صرف ضرورت کے مطابق خریداریاں کی جا رہی ہیں۔ زیورات کے تاجروں کا کہنا ہے کہ خریدار احتیاط برتتے ہوئے صورتحال دیکھنے کے انتظار میں ہیں۔

عالمی مارکیٹ میں منگل کو سونے کی فی اونس قیمت 3,698 ڈالر 78 سینٹ تک پہنچ گئی جو ایک نیا ریکارڈ ہے، جبکہ دبئی گولڈ جیولری گروپ کے مطابق 24 قیراط فی گرام 445 درہم 25 فلس اور 22 قیراط 412 درہم 25 فلس پر ٹریڈ ہوا۔ اسی طرح 21 قیراط 395 درہم 25 فلس اور 18 قیراط 339 درہم فی گرام تک پہنچ گیا۔

کنز جیولز کے چیئرمین انیل دھناک کے مطابق زیورات کی فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے اور اب زیادہ تر دلچسپی سونے کی سلاخوں اور سکوں میں سرمایہ کاری کی شکل میں نظر آ رہی ہے۔ ان کے مطابق زیورات کی فروخت اور گاہکوں کی آمد و رفت تقریباً 40 فیصد کم ہو چکی ہے۔

کلین جیولرز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رمیش کلینارامن نے بتایا کہ اسکول کھلنے کے بعد سالانہ طور پر طلب میں کمی آتی ہے، تاہم امید ہے کہ آنے والے تہواروں کے سیزن میں دوبارہ فروخت میں اضافہ ہوگا۔

بافلے جیولرز کے منیجنگ ڈائریکٹر چیرگ وورا نے کہا کہ اگرچہ سونے کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر ہیں لیکن خریدار اب ہلکے وزن کے زیورات، ماڈیولر چوڑیاں اور ورسٹائل چینز پسند کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پرانے 22 قیراط زیورات کو نئے ڈیزائنز یا زیادہ خالص سرمایہ کاری کے ٹکڑوں میں تبدیل کرنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔

مینا جیولرز کے پارٹنر ونئے جیٹھوانی کے مطابق بہت سے خریدار یہ سمجھتے ہیں کہ دیوالی کے سیزن میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، اسی لیے وہ ابھی خریداری یا پیشگی بکنگ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق زیورات کی خریداری ثقافتی اور جذباتی طور پر اہمیت رکھتی ہے اور بلند قیمتوں کے باوجود یہ سرمایہ کاری اور تحفے کے طور پر پہلی ترجیح ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button