
خلیج اردو
دبئی پولیس نے رہائشیوں کو خبردار کیا ہے کہ آن لائن کنزیومر پروٹیکشن ویب سائٹس کے نام پر جعلی پلیٹ فارمز کے ذریعے شہریوں کی بینکاری معلومات چوری کر کے ان کے اکاؤنٹس سے رقم نکالی جا رہی ہے۔
دبئی پولیس کے جنرل ڈیپارٹمنٹ آف کریمنل انویسٹی گیشن کے اینٹی فراڈ سینٹر کے مطابق سائبر فراڈیے سرکاری ویب سائٹس سے مشابہ جعلی ویب سائٹس بنا کر صارفین کو اپنی ذاتی اور بینکاری معلومات فراہم کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔
پولیس کے مطابق فراڈ کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص صارف شکایت درج کرانے کے لیے آن لائن کنزیومر پروٹیکشن ویب سائٹ تلاش کرتا ہے، مگر اصل ویب سائٹ کے بجائے جعلی ویب سائٹ پر پہنچ جاتا ہے، جہاں اس سے نام، ای میل، فون نمبر اور شکایت کی تفصیلات طلب کی جاتی ہیں۔
معلومات جمع کرانے کے کچھ ہی دیر بعد متاثرہ شخص کو ایک کال موصول ہوتی ہے، جس میں کال کرنے والا خود کو کنزیومر پروٹیکشن کا اہلکار ظاہر کرتا ہے۔ شکایت کی وہی تفصیلات دہرا کر متاثرہ شخص کا اعتماد حاصل کیا جاتا ہے۔
اس کے بعد متاثرہ شخص کو ایک ریموٹ ایکسیس سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کرنے اور اسے چلانے کے دوران اپنے آن لائن بینک اکاؤنٹ میں لاگ اِن کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
دبئی پولیس کے مطابق اس عمل سے فراڈیوں کو متاثرہ شخص کے موبائل فون یا کمپیوٹر کی اسکرین تک مکمل رسائی مل جاتی ہے، جس کے ذریعے وہ خفیہ بینکاری معلومات حاصل کر کے اکاؤنٹس سے رقم منتقل کر سکتے ہیں یا غیر مجاز خریداری کر سکتے ہیں۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ شکایات درج کرانے کے لیے صرف سرکاری کنزیومر پروٹیکشن پلیٹ فارمز استعمال کریں، کسی بھی شخص کے ساتھ بینکاری پاس ورڈ، او ٹی پی یا مالی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں، اور نامعلوم لنکس پر کلک کرنے یا غیر معروف سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کرنے سے گریز کریں۔
دبئی پولیس نے کہا ہے کہ اگر کسی کو اس نوعیت کی دھوکہ دہی کا سامنا ہو تو وہ فوری طور پر دبئی پولیس ای کرائم پلیٹ فارم یا ہیلپ لائن 901 پر اطلاع دے۔







