متحدہ عرب امارات

دبئی کی قدیم ترین لانڈری بندش کے خطرے سے دوچار، مالک نے 34 ہزار درہم آن لائن اسکیم میں گنوا دیے

خلیج اردو
دبئی: جمیرا 1 کے علاقے میں قائم تقریباً 50 سال پرانی لانڈری "بیت الابیض کلاتھ پریسنگ” بندش کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ دکان کے مالک روی ورما نے بتایا کہ وہ ایک پیچیدہ آن لائن فراڈ کا شکار ہو کر 34,000 درہم سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ لانڈری 1978 میں ورما کے سسر نے قائم کی تھی اور برسوں سے پرانی روایات، وفادار گاہکوں اور مستحکم آمدنی پر چلتی رہی ہے۔

35 سالہ روی ورما نے بتایا، "مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کروں۔” انہوں نے اپنے دکان اور گھر کے باونس چیکس دکھاتے ہوئے کہا، "اس اسکیم نے میری زندگی برباد کر دی ہے۔ رئیل اسٹیٹ کمپنی نے میرے خلاف کیس دائر کر دیا ہے۔”

ورما کے مطابق ان کے مسائل اس وقت شروع ہوئے جب جون کے آغاز میں انہیں ‘ریا’ نامی خاتون کا واٹس ایپ پیغام موصول ہوا، جس نے انہیں آن لائن جز وقتی ملازمت کی پیشکش کی۔ ریا نے ورما کو ‘سلامہ’ نامی سینیئر سے ٹیلیگرام پر رابطہ کروایا۔ ورما کا کہنا ہے کہ وہ فراڈ کے خدشے کے باعث پہلے ہی ٹیلیگرام ڈیلیٹ کر چکے تھے، لیکن آسان کمائی کے لالچ میں دوبارہ انسٹال کر لیا۔

ورما کو ایک ٹیلیگرام گروپ میں شامل کیا گیا جس میں 45 کے قریب افراد تھے۔ شروع میں معمولی نوعیت کے کام ملتے جیسے ایمیزون کی کارٹ میں اشیاء ڈال کر اسکرین شاٹ بھیجنا۔ ہر کام پر 5 درہم ملتے تھے، جو ان کے مطابق ایک قمیص اور پتلون دھونے اور استری کرنے کی اجرت کے برابر تھا۔

رفتہ رفتہ کام کی نوعیت بدلتی گئی۔ ورما نے بتایا کہ انہیں 120 درہم بھیجنے کے بدلے اسی دن 156 درہم کمانے کا کہا گیا۔ پھر 300 درہم کے بدلے 390 درہم، 1,480 درہم کے بدلے مزید رقم کمانے کی پیشکش کی گئی۔ "یہ سب لانڈری چلانے سے کہیں زیادہ آسان لگنے لگا،” ورما نے اعتراف کیا۔

ایک دن ورما کو بتایا گیا کہ انہوں نے ایک کام میں غلطی کی ہے، جسے درست کرنے کے لیے انہیں 5,890 درہم کے اضافی کام کرنے ہوں گے۔ "اب میں اپنی رقم واپس لینے کے لیے مایوس ہو چکا تھا۔ وہ اسی طرح آپ کو پھنساتے ہیں،” ورما نے کہا۔

اس کے بعد ‘مینٹور’ کے نام پر ایک شخص نے ان سے ہزاروں درہم کی رقم مانگنی شروع کر دی، جیسے 8,640 درہم، 3,150 درہم اور 10,800 درہم۔ ہر بار یہ کہا جاتا کہ وہ اپنی رقم واپس لینے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اس دوران ورما نے قسطوں میں مختلف یو اے ای بینک اکاؤنٹس میں 34,150 درہم منتقل کر دیے۔

ورما کا کہنا ہے کہ آخری دھچکا اس وقت لگا جب انہیں ایک جعلی اسکرین شاٹ بھیجا گیا جس میں ان کا ‘کریڈٹ اسکور’ 100 سے نیچے گرنے کا بتایا گیا، اور اسکور بحال کرنے کے لیے 18,000 درہم ادا کرنے کو کہا گیا۔ جب انہوں نے پیغام کے ذریعے دلیل دینے کی کوشش کی تو انہیں گروپ سے نکال دیا گیا۔ "تب مجھے احساس ہوا کہ میں دھوکہ کھا چکا ہوں۔”

ورما نے دبئی پولیس میں شکایت درج کروا دی ہے اور تمام ٹرانزیکشنز، ٹیلیگرام گروپ اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات شیئر کی ہیں۔ "مجھے ہر دن اس فیصلے پر افسوس ہوتا ہے۔ میرے سسر نے مجھ پر اعتماد کر کے یہ دکان سونپی تھی، اور میں نے اسے بندش کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب میں اپنے خاندان کو بھارت واپس بھیجنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں کیونکہ یہاں ان کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا۔”

ورما کا واقعہ ان سیکڑوں کہانیوں میں سے ایک ہے جن میں لوگ ایسی آن لائن کام کے جھانسے میں اپنی جمع پونجی گنوا بیٹھتے ہیں۔ گزشتہ سال خلیج ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ دبئی کے ایک ہوٹل مالک نے اسی طرز کے فراڈ میں 66,000 درہم گنوا دیے تھے۔ سائبر سیکیورٹی فرم CloudSEK کے مطابق اس قسم کی اسکیموں کے ذریعے عالمی سطح پر 400 ملین درہم سے زائد رقم لوٹی جا چکی ہے۔

ٹاسک اسکیم کیا ہے؟
ٹاسک اسکیموں میں متاثرین کو آسان آن لائن کاموں کا لالچ دے کر پھنسایا جاتا ہے، جیسے پوسٹ لائک کرنا، کارٹ میں مصنوعات ڈالنا، یا ویڈیوز دیکھنا۔ مگر اس کے بدلے اکاؤنٹ اپ گریڈ کرنے یا رقم جمع کرانے کا تقاضا کیا جاتا ہے۔

کس طرح یہ اسکیم کام کرتی ہے؟

  • ابتدائی رابطہ: واٹس ایپ، ٹیلیگرام یا دیگر پلیٹ فارمز پر جعلی ریکروٹرز کی جانب سے پیغامات۔

  • کم خطرے والے کام: آسان کاموں کے بدلے معمولی رقم دی جاتی ہے تاکہ اعتماد قائم کیا جا سکے۔

  • ڈیپازٹ کا جال: زیادہ رقم کمانے یا کمائی نکلوانے کے لیے متاثرین سے سرمایہ کاری کروائی جاتی ہے۔

  • ذہنی کھیل: فرضی گروپ چیٹس، جعلی کامیابی کی کہانیاں، اور ‘مینٹورز’ کے ذریعے متاثرین کو فریب دیا جاتا ہے۔

اکثر اوقات ایپس یا ڈیش بورڈز پر دکھائی جانے والی کمائی جعلی ہوتی ہے اور متاثرین کو بار بار مختلف بہانوں سے رقم ادا کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔

ٹاسک اسکیموں سے کیسے بچیں؟

  • میسجنگ ایپس پر ملنے والی غیر ضروری نوکریوں کی پیشکش کو نظر انداز کریں۔

  • کبھی بھی پیسے کما نے کے لیے پیسے نہ دیں۔

  • کمپنی کی شناخت کو آفیشل ویب سائٹ یا لنکڈ ان سے چیک کریں۔

  • غیر قانونی سرگرمیوں جیسے جعلی ریویوز پر مبنی کاموں سے گریز کریں۔

  • مشکوک لنکس پر کلک کرنے یا ناواقف ایپس ڈاؤنلوڈ کرنے سے پرہیز کریں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button