
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں گزشتہ ایک سال کے دوران سونے کی قیمتوں میں فی گرام تقریباً 100 درہم کا اضافہ ہوا ہے، جس پر کئی رہائشیوں نے اپنی گولڈ جیولری کی خریداری کو بہترین سرمایہ کاری قرار دیا ہے۔
گزشتہ سال موسم گرما میں 22 قیراط سونا فی گرام 279 سے 290 درہم کے درمیان فروخت ہو رہا تھا، جبکہ بدھ کے روز اس کی قیمت 380 درہم فی گرام سے تجاوز کر گئی۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق سونے کی قیمتیں 2023 کی تیسری سہ ماہی سے مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ 2025 کی پہلی سہ ماہی میں قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 800 ڈالر فی اونس اضافہ ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2023 کی تیسری سہ ماہی میں سونا اوسطاً 1,928.5 ڈالر فی اونس تھا، جو چوتھی سہ ماہی میں 1,971.5 ڈالر تک پہنچا۔ 2024 میں پہلی سہ ماہی میں قیمت 2,069.8 ڈالر رہی، دوسری سہ ماہی میں 2,338.2 ڈالر، تیسری سہ ماہی میں 2,474.3 ڈالر، چوتھی سہ ماہی میں 2,663.4 ڈالر اور 2025 کی پہلی سہ ماہی میں 2,859.6 ڈالر فی اونس تک جا پہنچی۔
پی آر اور کارپوریٹ کمیونیکیشن کی پروفیشنل راجیتھا نائر نے کہا، "جب میں نے 2024 میں سونا خریدا تو 22 قیراط کی قیمت تقریباً 290 درہم فی گرام تھی۔ میں باقاعدگی سے ریٹ چیک کرتی تھی اور مجھے لگا یہ سرمایہ کاری کا بہترین وقت ہے۔ آج قیمت 380 درہم سے اوپر جا چکی ہے، یعنی وہی خریداری آج کہیں زیادہ مہنگی پڑتی۔ صرف ایک سال میں سونے کی قدر میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا۔”
راجیتھا کے مطابق ان کے لیے گولڈ جیولری نہ صرف جذباتی اہمیت رکھتی ہے بلکہ مالی اعتبار سے بھی ایک دانشمندانہ فیصلہ ثابت ہوئی ہے۔ "یہ میرے لیے سب سے فائدہ مند سرمایہ کاری ثابت ہوئی۔ فی گرام 100 درہم کا اضافہ بہت بڑا فرق ہے، خاص طور پر اس چیز کے لیے جسے میں پہن کر بھی خوش ہوتی ہوں۔”
انہوں نے مزید کہا، "جیولری ایک ٹھوس اثاثہ ہے جس میں جذباتی وابستگی بھی ہوتی ہے۔ اگرچہ سکے اور بارز سرمایہ کاری کے لیے بہترین ہوتے ہیں، مگر زیورات ذاتی تسکین اور خوبصورتی کا امتزاج پیش کرتے ہیں۔”
اسی طرح، ایک اور پرانی رہائشی، سیلز اینڈ مارکیٹنگ ایگزیکٹیو پوجا ایس، نے بھی گزشتہ سال 22 قیراط سونا 277 درہم فی گرام کے حساب سے خریدا تھا۔ "آج قیمت میں تقریباً 100 درہم فی گرام اضافے کا مطلب ہے کہ انہی زیورات کے لیے مجھے آج تقریباً 2,450 درہم زیادہ ادا کرنا پڑتے۔”
بیچنے کے بجائے سونا سنبھال کر رکھیں
پوجا سونے کے سکے اور بارز میں بھی سرمایہ کاری کرتی ہیں اور اسے محفوظ اور قابل اعتماد اثاثہ تصور کرتی ہیں۔ راجیتھا نے بھی دیگر رہائشیوں کو مشورہ دیا کہ وہ فی الحال سونا نہ بیچیں۔ "چونکہ قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، اس لیے کچھ صبر کرنا دانشمندی ہوگی۔ تھوڑا انتظار بہتر منافع لا سکتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، "سونا ہر معاشی حالات میں اپنی اہمیت برقرار رکھتا ہے۔ یہ صرف مالی منافع کی بات نہیں بلکہ ثقافتی ورثے، تحفظ اور لازوال خوبصورتی کی علامت بھی ہے۔ خاص طور پر ہمارے خطے میں سونا ایک سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ روایت بھی ہے۔”
جیولرز کا کیا کہنا ہے؟
یوگیش جیولرز کے سینئر ایگزیکٹیو نرمل کمار کے مطابق، "ایک سال میں فی گرام 100 درہم کا اضافہ حیران کن ہے۔” انہوں نے کہا، "خاص طور پر وہ گاہک جنہوں نے 2024 کے آغاز میں سونا خریدا، ان کے لیے یہ سرمایہ کاری منافع بخش اور جذباتی لحاظ سے قیمتی ثابت ہوئی ہے۔ سکے اور بارز خالص سرمایہ کاری کے لیے بہترین ہیں، مگر زیورات میں خوبصورتی اور تجربہ بھی شامل ہوتا ہے۔”
ٹائٹن کمپنی (تنیشق) کے بین الاقوامی جیولری بزنس کے سربراہ آدتیہ سنگھ نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران صارفین کے رویے اور ریٹیل حکمت عملی میں تبدیلی آئی ہے۔ "ہم نے ہلکے، ماڈیولر اور ورسٹائل ڈیزائنز کی مانگ میں اضافہ دیکھا ہے جو کئی مواقع پر پہنے جا سکتے ہیں اور زیادہ مہنگے بھی نہیں ہوتے۔ نوجوان صارفین ایسے زیورات کی تلاش میں ہیں جو ان کی ذاتی شناخت کی عکاسی کریں۔”
انہوں نے مزید کہا، "آج کے صارفین قیمتوں، میکنگ چارجز، سورسنگ اور سرٹیفکیشن میں شفافیت چاہتے ہیں۔ جو ریٹیلرز خالص قدروں اور سچائی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، وہی طویل المدتی اعتماد حاصل کر رہے ہیں۔






