متحدہ عرب امارات

دبئی میں ہیرے بھارت سے 20 فیصد تک سستے، بھارتی خریداروں کی بڑی تعداد امارات کا رخ کرنے لگی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں ہیرے کے زیورات بھارت کے مقابلے میں 5 سے 20 فیصد تک سستے دستیاب ہیں، جس کے باعث دبئی بھارتی خریداروں کے لیے ہیرے اور قیمتی زیورات کی خریداری کا پسندیدہ مرکز بنتا جا رہا ہے۔

اماراتی جیولرز کے مطابق قیمتوں میں یہ فرق خاص طور پر بڑے سولیٹیئر ہیروں اور مہنگے زیورات میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے، جہاں بھارتی ٹیکسوں کو شامل کرنے کے بعد مجموعی لاگت نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔

بافلہ جیولرز کے منیجنگ ڈائریکٹر چراغ وورا کے مطابق بھارت میں پالش شدہ ہیروں پر 5 فیصد درآمدی ڈیوٹی اور 3 فیصد جی ایس ٹی عائد ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات میں ہیروں پر درآمدی ڈیوٹی صفر ہے اور 5 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس سیاحوں کو واپس بھی مل سکتا ہے۔

کنز جیولز کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر انیل دھانک نے بتایا کہ دبئی عالمی سطح پر سونے، ہیروں اور قیمتی پتھروں کی تجارت کا اہم مرکز ہے، جس کی وجہ سے یہاں سپلائی چین زیادہ مؤثر، کاروباری اخراجات کم اور مارکیٹ انتہائی مسابقتی ہے۔

ماہرین کے مطابق دبئی میں عالمی معیار کے تصدیق شدہ ہیرے دستیاب ہیں، جہاں جی آئی اے اور آئی جی آئی جیسی بین الاقوامی اداروں کی سرٹیفکیشن خریداروں کو اعتماد اور شفافیت فراہم کرتی ہے۔

جیولری کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ بھارتی سیاح صرف کم قیمتوں ہی نہیں بلکہ جدید ڈیزائنز، معیاری مصنوعات اور ایئرپورٹ پر آسان ڈیجیٹل وی اے ٹی ریفنڈ کی سہولت کے باعث بھی دبئی کو ترجیح دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سولیٹیئر ہیرے، دلہنوں کے لیے ہیرے کے زیورات، ٹینس بریسلٹس اور روزمرہ استعمال کے لگژری کلیکشنز کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ نوجوان خریدار اب ہیروں کو صرف خاص مواقع کے بجائے فیشن اور طرزِ زندگی کا حصہ سمجھ کر خرید رہے ہیں۔

چراغ وورا کے مطابق دبئی میں تصدیق شدہ لیب میں تیار کردہ ہیرے بھی تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، جس سے محدود بجٹ رکھنے والے خریدار قدرتی ہیروں کے مقابلے میں کم قیمت پر بڑے سائز کے ہیرے حاصل کر سکتے ہیں۔

کم ٹیکس، عالمی معیار کی تصدیق، متنوع ڈیزائنز اور مسابقتی قیمتوں کی بدولت دبئی دنیا بھر خصوصاً بھارتی سیاحوں کے لیے ہیرے کے زیورات کی خریداری کا اہم ترین مرکز بنتا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button