
خلیج اردو
ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے اعلان نے متحدہ عرب امارات میں جنگ کے معاشی اثرات سے متاثر ہونے والے ہزاروں رہائشیوں کو نئی امید دے دی ہے، جن میں ملازمت سے محروم ہونے والے افراد اور تنخواہوں میں کٹوتی کا سامنا کرنے والے ملازمین شامل ہیں۔
مہمان نوازی کے شعبے سے وابستہ 23 سالہ سَنیش نے بتایا کہ جنگ کے آغاز کے بعد ان کی ماہانہ تنخواہ کم ہو کر صرف 800 درہم رہ گئی تھی۔ ان کے مطابق سیاحت کے شعبے پر جنگ کے اثرات کے باعث ان کی کمپنی اور دوستوں کے حلقے میں متعدد افراد ملازمتوں سے محروم ہو گئے تھے۔
سَنیش نے کہا، "جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امن معاہدے کا اعلان کیا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے سرنگ کے آخر میں روشنی نظر آ گئی ہو۔ میں نے فوراً کمپنی کے واٹس ایپ گروپ میں یہ خبر شیئر کی اور سب نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔”
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ ان کی زندگی کے مشکل ترین دنوں میں شامل تھے، جہاں تنخواہ میں کمی، مہنگائی اور خاندانی مالی دباؤ نے حالات مزید پیچیدہ بنا دیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ستمبر تک متحدہ عرب امارات میں معاشی سرگرمیاں معمول پر آنے کی امید ہے۔
دوسری جانب بھارتی نژاد رہائشی محمد اقبال، جو تین ماہ قبل ایک سفری ادارے کی ملازمت سے فارغ کر دیے گئے تھے، نے کہا کہ وہ امن معاہدے کی باضابطہ توثیق اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے منتظر ہیں۔
محمد اقبال کے مطابق وہ اس وقت اپنی اہلیہ کی بطور استاد آمدنی پر گزارا کر رہے ہیں جبکہ مالی مشکلات کے باعث انہیں اپنی کمسن بیٹی کو نرسری سے بھی نکالنا پڑا۔ انہوں نے کہا، "مجھے یقین ہے کہ سفری صنعت دوبارہ فعال ہوگی اور میں جلد نئی ملازمت حاصل کر لوں گا۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ امن معاہدے کے بعد کاروباری اعتماد بحال ہونے کا امکان ہے، جس سے وہ بھرتیاں دوبارہ شروع ہو سکتی ہیں جو جنگی صورتحال کے باعث مؤخر کر دی گئی تھیں، خاص طور پر تجارت، بنیادی ڈھانچے اور معاشی ترقی سے وابستہ شعبوں میں۔
ایک اور رہائشی عالیہ حسین، جو گزشتہ دو ماہ سے چھ ماہ کی جبری رخصت پر ہیں، نے بتایا کہ امن معاہدے کی خبر دیکھ کر انہیں یقین ہی نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات کے باعث انہیں اس ماہ کریڈٹ کارڈ قرض لینا پڑا، تاہم اب وہ حالات میں بہتری اور روزگار کے نئے مواقع کے لیے پُرامید ہیں۔
ایران امریکا امن معاہدے نے متحدہ عرب امارات میں جنگ سے متاثر ہونے والے ملازمین اور خاندانوں کو معاشی بحالی، روزگار میں اضافے اور بہتر مستقبل کی نئی امید فراہم کر دی ہے۔







