متحدہ عرب امارات

دبئی میں سیلف ڈرائیونگ روبوٹیکسیز: ملی سیکنڈز کیوں سڑک پر حفاظت کا فیصلہ کرتے ہیں

خلیج اردو
دبئی میں خودکار روبوٹیکسی سروس اب محض تصور نہیں رہی بلکہ شہر کی بعض سڑکوں پر آزمائشی بنیادوں پر چل رہی ہے، جبکہ 2026 تک مکمل ڈرائیور لیس سروس شروع ہونے کی توقع ہے۔

ماہرین کے مطابق عوامی توجہ گاڑیوں پر مرکوز ہے، مگر اصل حفاظتی چیلنج پسِ پردہ موجود ڈیٹا پروسیسنگ کی رفتار ہے، کیونکہ سڑک پر اچانک بدلتی صورتحال میں ملی سیکنڈز بھی فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں۔

خودکار گاڑیاں مسلسل سینسر ڈیٹا پر انحصار کرتی ہیں، جس کے ذریعے وہ پیدل چلنے والوں کی شناخت، اچانک بریک یا لین کی تبدیلی جیسے فیصلے لمحوں میں کرتی ہیں۔ ایکوئنکس کے مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ کے منیجنگ ڈائریکٹر کامل الطویل کے مطابق،
“Latency براہِ راست اس بات کا تعین کرتی ہے کہ خودکار گاڑی کتنی تیزی سے ماحول کو سمجھ کر خطرات کا جواب دے سکتی ہے، شہری ٹریفک میں ملی سیکنڈز بہت اہم ہوتے ہیں۔”

دبئی کی خودکار ٹرانسپورٹ حکمتِ عملی کے تحت 2030 تک شہر کے 25 فیصد سفر خودکار ذرائع سے مکمل کرنے کا ہدف مقرر ہے، جس میں تقریباً 4 ہزار ڈرائیور لیس ٹیکسیاں شامل ہوں گی، جبکہ ٹریفک حادثات اور رش میں کمی کے ساتھ سفری وقت کے لاکھوں گھنٹے بچانے کا منصوبہ ہے۔

روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے ابتدائی مرحلے میں دو آپریشنل زونز میں 65 مقامات مختص کیے ہیں۔ 2025 میں بائیڈو کی Apollo Go کو بغیر سیفٹی ڈرائیور مکمل خودکار گاڑیوں کے ٹرائل کی اجازت دی گئی، جبکہ WeRide کے تعاون سے امّ سقیم اور جمیرا میں اوبر ایپ کے ذریعے روبوٹیکسی سروس آزمائشی طور پر متعارف کرائی گئی ہے۔

قانون نمبر 9 برائے 2023 کے تحت خودکار گاڑیوں کے آپریٹرز کو ڈیٹا مقامی سطح پر محفوظ اور پروسیس کرنے کی پابندی ہے، جس میں گاڑیوں کی نقل و حرکت، دیکھ بھال، خرابیوں اور حادثات کا ریکارڈ شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے کم لیٹنسی والا مقامی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ناگزیر ہے۔

کامل الطویل کے مطابق،
“اگر ڈیٹا اس مقام سے دور پروسیس ہو جہاں وہ پیدا ہوتا ہے تو معمولی نیٹ ورک تاخیر بھی حقیقی وقت کے فیصلوں کو متاثر کر سکتی ہے، اسی لیے ایج اور آن وہیکل پروسیسنگ پر انحصار کیا جاتا ہے۔”

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ دور دراز ڈیٹا سینٹرز پر انحصار خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ تیز رفتار شہری ٹریفک میں معمولی تاخیر بھی حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق دبئی میں روبوٹیکسی منصوبے کی کامیابی صرف جدید گاڑیوں پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ یہ گاڑیاں غیر متوقع صورتحال میں کتنی تیزی سے “سوچ” اور ردِعمل دے سکتی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ مقامی ڈیٹا پروسیسنگ اب ایک تکنیکی نہیں بلکہ بنیادی حفاظتی ضرورت بن چکی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button