
خلیج اردو
بھارت میں اوور دی کاؤنٹر (بغیر نسخے کے) کھانسی کے شربت کی فروخت پر پابندی اور سخت کنٹرول اس وقت نافذ کیے گئے جب کئی ریاستوں میں ان ادویات کے غلط استعمال اور خطرناک نتائج سامنے آئے۔
بڑے پیمانے پر غلط استعمال کا انکشاف
2025 کے آخر میں بھارتی ریاست اتر پردیش کی فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ایس ڈی اے) نے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، جہاں کوڈین پر مبنی کھانسی کے شربتوں کو نشے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ کارروائیوں کے دوران فینسیڈیل اور دیگر کوڈین والے شربتوں کی لاکھوں بوتلیں برآمد ہوئیں۔
یہ شربت عام طور پر کوڈین اور دیگر ایسے اجزا پر مشتمل ہوتے ہیں جو دماغی نظام پر اثر ڈال کر نشے یا "ایوفوریا” جیسا احساس پیدا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا غلط استعمال بڑھ گیا۔
خطرناک کیمیکل اور اموات کے واقعات
بھارتی حکومت کے مطابق کچھ واقعات میں کھانسی کے شربت آلودہ پائے گئے جن میں ڈائی ایتھائلین گلائیکول (DEG) اور ایتھائلین گلائیکول (EG) جیسے صنعتی کیمیکل شامل تھے۔ یہ مادے گردوں کی ناکامی، شدید بیماری اور بعض صورتوں میں موت کا سبب بن سکتے ہیں۔
اسی طرح بھارت کی کئی ریاستوں سمیت دنیا کے کچھ ممالک میں بھی ایسے کیس رپورٹ ہوئے جہاں بچوں کی اموات ان آلودہ شربتوں سے منسلک پائی گئیں۔
نیا حکومتی فیصلہ کیا ہے؟
بھارتی وزارت صحت کے مطابق اب کھانسی سمیت تمام شربت صرف ڈاکٹر کے نسخے پر ہی مل سکیں گے۔ فارمیسی یا عام دکانوں پر اوور دی کاؤنٹر فروخت پر مکمل پابندی یا سخت کنٹرول نافذ کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کی وارننگ
ماہرین صحت کے مطابق کچھ کھانسی کے شربتوں میں کوڈین اور ڈیکسٹرو میتھورفان (DXM) جیسے اجزا ہوتے ہیں، جو عادت بن سکتے ہیں اور غلط استعمال کی صورت میں نشے کا سبب بنتے ہیں۔ خاص طور پر نوجوانوں میں اس کا غیر طبی استعمال تشویشناک حد تک بڑھ گیا تھا۔
اسمگلنگ اور منظم نیٹ ورک
بھارتی ڈرگ ریگولیٹری اداروں نے ایسے نیٹ ورکس بھی بے نقاب کیے جو ان شربتوں کو بڑے پیمانے پر ذخیرہ اور غیر قانونی فروخت میں ملوث تھے۔ مختلف ریاستوں میں چھاپوں کے دوران ہزاروں بوتلیں ضبط کی گئیں۔







