
خلیج اردو
ایئرپورٹس پر مفت وائی فائی سے جڑنا یا عوامی چارجنگ پورٹس پر موبائل فون چارج کرنا اکثر مسافروں کے لیے معمول کی بات بن چکی ہے، مگر سائبر ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہی لمحے سائبر مجرموں کے لیے سب سے موزوں ہوتے ہیں۔ یو اے ای میں ماہرین کے مطابق بیرونِ ملک سفر کرنے والے افراد کو خاص طور پر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ جعلی وائی فائی نیٹ ورکس، فشنگ لنکس اور جوس جیکنگ جیسے سائبر خطرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
ٹریول رسک مینجمنٹ کمپنی سیکیورو گروپ کے سی ای او رافل ہپس کے مطابق سفر کے دوران لوگوں کی توجہ بکھری ہوتی ہے اور جلدی کی کیفیت میں وہ سیکیورٹی احتیاط کو نظر انداز کر دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سفر سائبر فراڈ کے لیے ایک منافع بخش ماحول بن چکا ہے، خاص طور پر ان مسافروں کے لیے جو یو اے ای جیسے محفوظ ماحول کے عادی ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جعلی وائی فائی نیٹ ورکس، جعلی ادائیگی لنکس، فشنگ ای میلز اور جوس جیکنگ کے ذریعے مسافروں کے موبائل اور ڈیٹا کو آسانی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جبکہ چھٹیوں کے گھروں یا کرائے کی گاڑیوں میں اپنے ذاتی اکاؤنٹس لاگ ان کرنا بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
پالو آلٹو نیٹ ورکس کے ای ایم ای اے خطے کے چیف سیکیورٹی آفیسر حیدر پاشا کے مطابق سب سے بڑی غلطی یہ تصور کرنا ہے کہ سفر کے دوران ہر ماحول قابلِ اعتماد ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنیادی سائبر ہائی جین اپنانا ضروری ہے، جیسے نیٹ ورک کی تصدیق، غیر ضروری اجازتیں محدود کرنا اور ڈیوائسز کو اپ ڈیٹ رکھنا، کیونکہ اسکیمرز اکثر مصروف اور لاپرواہ مسافروں کو جعلی بکنگ کنفرمیشن، ریفنڈ اسکیمز اور فوری نوعیت کے پیغامات کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مصروف سفری مقامات پر جعلی یا اصل جیسے نظر آنے والے وائی فائی نیٹ ورکس عام ہوتے ہیں، جو آسانی سے بنائے جا سکتے ہیں اور ایک نظر میں پہچاننا مشکل ہوتا ہے۔ اگر کوئی لاگ ان پیج غیر معمولی معلومات مانگے، اچانک ادائیگی کا مطالبہ کرے یا کسی ایپ یا پروفائل کو ڈاؤن لوڈ کرنے پر زور دے تو فوراً کنکشن منقطع کر کے موبائل ڈیٹا استعمال کرنا چاہیے۔ بینکنگ، ای میل یا پاس ورڈ مینیجر جیسے حساس معاملات کے لیے عوامی وائی فائی کے بجائے ذاتی ہاٹ اسپاٹ یا سیلولر ڈیٹا استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
عوامی یو ایس بی چارجنگ اسٹیشنز کے حوالے سے بھی شدید وارننگ دی گئی ہے، جہاں جوس جیکنگ کے ذریعے میل ویئر انسٹال یا ڈیٹا چوری کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مسافروں کو ہمیشہ اپنے چارجر یا صرف پاور کے لیے مخصوص یو ایس بی کیبل استعمال کرنی چاہیے۔
ماہرین نے بیرونِ ملک فون چوری ہونے کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے، کیونکہ کمزور پاس کوڈ، ان لاک ڈیوائسز، سم کارڈز اور لاک اسکرین نوٹیفکیشنز کے ذریعے بینکنگ ایپس، ای میلز اور کلاؤڈ اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں فوری طور پر فون کو ریموٹ لاک یا ڈیٹا وائپ کرنا، پاس ورڈز تبدیل کرنا، بینک اور موبائل کمپنی کو اطلاع دینا ضروری ہے۔
مزید یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ کرائے کی گاڑیوں، ہوٹل ٹی وی اور دیگر سسٹمز میں ذاتی ڈیٹا چھوڑنا خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے چیک آؤٹ سے قبل کانٹیکٹس، کال لاگز، اسٹریمنگ اکاؤنٹس اور نیویگیشن ہسٹری مکمل طور پر ڈیلیٹ کر دینی چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سفر کو گھر جیسا محفوظ ماحول سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ روانگی سے قبل فون کو محفوظ بنانا، مضبوط پاس کوڈ اور بائیومیٹرک لاک فعال کرنا، آٹو لاک کا دورانیہ کم کرنا اور ایک ہی یوزر نیم و پاس ورڈ کو مختلف اکاؤنٹس کے لیے استعمال نہ کرنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ بظاہر چھوٹی کوتاہیاں ہی بڑے سائبر مسائل کا سبب بن جاتی ہیں۔







