
خلیج اردو
دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم نے نئے سماجی اقدام ’دبئی لنچ‘ کے تحت دیرا سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد معززین اور خاندانوں سے ملاقات کی۔ یہ تقریب الخوانیج مجلس میں منعقد ہوئی، جس کا اہتمام محمد جمعہ النبودہ کی دعوت پر کیا گیا تھا۔ شیخ حمدان اس موقع پر نائب وزیر اعظم، وزیر دفاع اور دبئی ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی شریک ہوئے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری تصاویر میں شیخ حمدان کو مہمانوں کے ساتھ خوشگوار انداز میں گفتگو کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ایک تصویر میں وہ ایک کمسن بچے سے محبت بھرے انداز میں ملتے نظر آئے، جس میں انہوں نے بچے کا چہرہ تھام رکھا ہے اور اس کا ہاتھ بھی پکڑا ہوا ہے۔
’دبئی لنچ‘ ایک ایسا اقدام ہے جس کا مقصد دبئی بھر میں کمیونٹی مجالس کے ذریعے سماجی روابط کو مضبوط بنانا اور ہمسائیگی کے رشتوں کو فروغ دینا ہے۔ اس اقدام کے تحت مجالس کے روایتی کردار کو دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ مقامات عوامی میل جول، یکجہتی اور باہمی تعلق کے فروغ کا ذریعہ بن سکیں۔
تقریب سے خطاب میں شیخ حمدان نے کہا کہ دبئی کی ترقی کے سفر کو برقرار رکھنے کے لیے سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ کسی بھی شہر کی اصل طاقت صرف اس کے انفراسٹرکچر میں نہیں بلکہ اس کے لوگوں کے درمیان موجود مضبوط رشتوں اور سماجی ڈھانچے میں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی مجالس ہمیشہ سے سماجی یکجہتی کی بنیاد رہی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گی، جہاں لوگ مل بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں اور اقدار نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں۔
شیخ حمدان کا کہنا تھا کہ ’دبئی لنچ‘ کے ذریعے ان اصولوں کو دوبارہ اجاگر کیا جا رہا ہے جنہوں نے دبئی کی بنیاد رکھی، جن میں ہمدردی، کھلا مکالمہ، مہمان نوازی اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس شامل ہے، اور یہ اقدار نہ صرف ماضی کا حصہ ہیں بلکہ مستقبل کی راہنمائی کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔
کمیونٹی ڈیولپمنٹ اتھارٹی دبئی کی ڈائریکٹر جنرل، حصة بنت عیسیٰ بوحمید نے کہا کہ ’دبئی لنچ‘ قیادت کے عوام مرکز ترقی کے وژن کو عملی شکل دیتا ہے، جہاں سماجی روابط، مشترکہ اقدار اور روزمرہ میل جول کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق 2026 میں منائے جانے والے ’سالِ خاندان‘ کی تیاری کے تناظر میں اس اقدام کو خاص طور پر اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ مجالس کے اصل سماجی کردار کو بحال کیا جا سکے اور تعلق و رابطے کی اقدار کو فروغ دیا جا سکے۔







