خلیج اردو
دبئی میں مقیم ایک ماں نے بتایا کہ ان کے 12 سالہ بیٹے نے دو ماہ کی چھٹیوں میں زیادہ تر وقت پلے اسٹیشن، روبلوکس اور یوٹیوب پر گزارا۔ پہلے وہ لیگو، پزلز اور کتابوں میں دلچسپی لیتا تھا، مگر اب اس کی توجہ صرف گیجٹس اور ڈوپامین ہٹس پر مرکوز ہے، جو اس کی نظر اور دماغ کے لیے نقصان دہ ہیں۔
والدہ نے شروع میں بچے کو آزادانہ کھیلنے دیا، لیکن پھر مجبوراََ اسکرین ٹائم کم کرنے کے لیے شیڈول بنایا، جس میں تخلیقی سرگرمیاں اور باہر کھیلنے جیسی چیزیں شامل کیں۔ بیٹے کی ضد اور جھگڑوں کے باوجود انہوں نے اسے گرمیوں کے کیمپ میں داخل کرایا تاکہ وقت کا مثبت استعمال ہو۔
اسی دوران، ماں نے نئے تعلیمی سال کی تیاری شروع کی، آن لائن خریداری اور اسکول وزٹ کے ذریعے یونیفارم، جوتے اور اسٹیشنری مکمل کر لی۔
اب سب کچھ تیار ہے، مگر ماں کی اصل فکر صبح جلدی اٹھانے کی ہے۔ پچھلے سال بیٹے کو اسکول بس کے لیے 6:45 پر اٹھانا بڑا چیلنج رہا، کیونکہ ہر صبح ایک لمبی کشمکش کے بعد ہی بچہ تیار ہوتا تھا۔ وہ امید کرتی ہیں کہ اس سال صبح کا یہ جھگڑا کم سے کم ہوگا۔







