متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت خصوصی افراد کی تعلیم میں انقلاب لانے کے لیے متعارف، طلبہ کو صرف صارف نہیں بلکہ تخلیق کار بنانے پر توجہ

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات مستقبل کی تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کو مرکزی حیثیت دے رہا ہے، خصوصاً خصوصی افراد کو خودمختار انداز میں تعلیم حاصل کرنے اور قومی تعلیمی نظام میں مکمل شمولیت کے قابل بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

اماراتی محققہ مونا الحمادی کی حالیہ تحقیق کے مطابق حکومت خصوصی افراد کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی تعلیمی تحقیق میں سرمایہ کاری، نئے حل تیار کرنے والے محققین کی حوصلہ افزائی اور جدید تعلیمی منصوبوں کی سرپرستی کر رہی ہے تاکہ اس شعبے میں جدت کو فروغ دیا جا سکے۔

تحقیق میں سفارش کی گئی ہے کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق کھلی اور باقاعدہ کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائے تاکہ ماہرین اپنے تجربات اور جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ کر سکیں۔ اس کے علاوہ خصوصی افراد کے لیے مصنوعی ذہانت سے معاونت یافتہ ٹیلی ویژن یا یوٹیوب پلیٹ فارم قائم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے، جہاں دنیا بھر کے خصوصی افراد ایک دوسرے سے سیکھ سکیں۔

تحقیق کے مطابق تعلیمی نظام کا مقصد صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے طلبہ تیار کرنا نہیں بلکہ ایسے نوجوان پیدا کرنا ہے جو مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی کو سمجھ سکیں، اس کا تجزیہ کریں اور خود نئی ایجادات میں کردار ادا کریں۔

اس وقت مصنوعی ذہانت پر مبنی کئی ایپلی کیشنز خصوصی افراد کی عملی مدد کر رہی ہیں۔ نابینا افراد کے لیے متن پڑھ کر سنانے والی ایپس، ڈسلیکسیا کے شکار افراد کے لیے پڑھنے اور لکھنے میں معاون سافٹ ویئر، بصارت سے محروم افراد کو رضاکاروں سے براہِ راست ویڈیو کے ذریعے جوڑنے والی سہولیات، اشاروں کی زبان کو فوری طور پر متن میں تبدیل کرنے والے نظام، اور طلبہ کی تعلیمی مشکلات کی ابتدائی نشاندہی کرنے والی ایپس پہلے ہی استعمال میں ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر سہولیات عام اسمارٹ فون پر کم یا بغیر کسی اضافی لاگت کے استعمال کی جا سکتی ہیں، جس سے خصوصی افراد اور ان کے اہل خانہ کے لیے ان تک رسائی آسان ہو جاتی ہے۔

عالمی سطح پر بھی مصنوعی ذہانت پر مبنی تعلیمی شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق یہ مارکیٹ 2023 میں تقریباً 3.43 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2032 تک 54.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2030 تک ڈھائی ارب سے زائد افراد کو معاون ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوگی، لیکن تقریباً ایک ارب افراد لاگت اور ڈیجیٹل مہارت کی کمی کے باعث ان سہولیات سے محروم رہ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button