متحدہ عرب امارات

بیاسی سالہ اماراتی کسان نے آم کھانے کی خواہش کو پچاس سالہ زرعی کامیابی میں بدل دیا، ہر سال ہزاروں کلوگرام آم کی پیداوار حاصل کرنے لگے

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ کے 82 سالہ اماراتی کسان احمد محمد غریب نے آم سے محبت کو ایک منفرد زرعی کامیابی میں تبدیل کر دیا۔ پہلی بار آم کھانے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس پھل کو اپنے ملک میں بھی اگائیں گے، جس کے لیے وہ پاکستان اور بھارت سے آم کے بیج اور پودے لے کر آئے۔

احمد محمد غریب نے بتایا، "میں پاکستان اور بھارت گیا، وہاں سے آم کے بیج اور پودے لایا، پھر اپنی زمین پر انہیں لگا کر مقامی موسم میں کامیاب کاشت کے طریقے سیکھے۔”

انہوں نے گزشتہ پچاس برس کے دوران نہ صرف آم کی کامیاب کاشت کی بلکہ مختلف اقسام کی پیوند کاری کر کے نئی اقسام بھی تیار کیں جو اماراتی موسم سے بہتر مطابقت رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا، "میری خواہش تھی کہ ایسے آم پیدا کروں جو ہمارے ماحول کے لیے موزوں ہوں، اور یہ تجربہ صبر اور مسلسل محنت سے ممکن ہوا۔”

ان کے باغات فجیرہ کے شرم اور البدیہ علاقوں میں واقع ہیں، جہاں آم کے علاوہ کھٹے پھل اور کھجوریں بھی کاشت کی جاتی ہیں۔ اگرچہ روزمرہ کے کاموں میں مزدور مدد کرتے ہیں، لیکن احمد محمد غریب آج بھی کھاد ڈالنے، آبپاشی، شاخ تراشی اور دیگر تمام اہم مراحل کی خود نگرانی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "تجربہ ہی اصل راز ہے۔ درختوں کو صحیح وقت پر کھاد، پانی اور دیکھ بھال ملے تو وہ بہترین پھل دیتے ہیں۔”

ان کے باغات میں عربی حمض، ہندی حمض، لومی، فیفائی اور عربی موزہ سمیت آم کی متعدد اقسام موجود ہیں۔ اچھی فصل کے دوران تقریباً بارہ ہزار کلوگرام آم حاصل ہوتے ہیں، جبکہ بعض برس موسمی حالات کے باعث پیداوار دس ہزار یا پانچ ہزار کلوگرام تک بھی رہ جاتی ہے۔

احمد محمد غریب آج بھی آم کے درختوں پر پکنے والے پھل کو دیکھ کر اتنی ہی خوشی محسوس کرتے ہیں جتنی کئی دہائیاں پہلے محسوس کرتے تھے۔ ان کے مطابق، "آم کی کاشت صبر مانگتی ہے، لیکن اگر درختوں کی صحیح دیکھ بھال کی جائے تو وہ بہترین پھل سے اس کا صلہ دیتے ہیں۔”

وہ متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والی زرعی نمائشوں اور آم میلوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں۔ اس وقت بھی وہ خورفکان آم میلے میں اپنی مختلف اقسام کی نمائش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، "یہ میلے صرف آم فروخت کرنے کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کو اماراتی زرعی صلاحیت سے روشناس کرانے اور نوجوانوں کو زراعت کی طرف راغب کرنے کا ذریعہ ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button