
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے "دبئی اِٹ” نامی ایک نئے اقدام کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد بڑے خوابوں کو ریکارڈ مدت میں اعلیٰ معیار کے ساتھ عملی شکل دینا اور اسی سوچ کو سرکاری اداروں اور کمپنیوں کی مستقل ثقافت بنانا ہے۔
شیخ محمد بن راشد نے "دبئی اِٹ” کو ایک فعل قرار دیتے ہوئے کہا، "دبئی اِٹ کا مطلب ہے کہ غیر معمولی کام کو بہترین انداز میں اور ریکارڈ وقت میں مکمل کیا جائے۔ یہی وہ فلسفہ ہے جس نے دبئی کو مختصر عرصے میں صحرا سے عالمی شہر میں تبدیل کر دیا۔”
اس اقدام کے آغاز کے بعد دبئی کے متعدد سرکاری اداروں اور بڑی کمپنیوں نے #دبئی_اِٹ ہیش ٹیگ کے ساتھ سوشل میڈیا پر اپنی ماضی اور حال کی تصاویر شیئر کرنا شروع کر دیں۔ ان تصاویر میں پرانے تعمیراتی مقامات، سادہ عمارتیں اور ویران صحرا دکھائے گئے ہیں، جن کی جگہ آج جدید عمارتیں، عالمی معیار کی سہولیات اور ترقی یافتہ انفراسٹرکچر نے لے لی ہے۔
دبئی ہیلتھ اتھارٹی اور دبئی ہیلتھ نے کئی دہائیوں پرانے ایک چھوٹے کلینک کی تصویر کو موجودہ جدید آؤٹ پیشنٹ کلینکس کمپلیکس کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ "دبئی میں صحت کا شعبہ صرف ایک خواہش نہیں تھا بلکہ ایک ایسا وژن تھا جو وقت کے ساتھ جدید نظام میں تبدیل ہوا۔”
ایکسپو سٹی دبئی نے بھی اس مقام کی ماضی کی صحرائی تصویر اور آج کے عالمی معیار کے شہری مرکز کی تصویر جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلی دبئی کے اس عزم کی علامت ہے جو آنے والی نسلوں پر بھی مثبت اثرات مرتب کرے گی۔
پورٹس، کسٹمز اینڈ فری زون کارپوریشن نے ابتدائی بندرگاہوں کی سیاہ و سفید تصاویر کے ساتھ موجودہ جبل علی بندرگاہ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا، "دبئی اِٹ صرف ایک خیال نہیں بلکہ کامیابیوں سے لکھی گئی ایک داستان ہے۔”
دبئی فیوچر فاؤنڈیشن نے میوزیم آف دی فیوچر کی تعمیر کے ابتدائی مرحلے اور مکمل ہونے کے بعد کی تصاویر جاری کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے خیالات کو عملی منصوبوں اور عوامی تجربات میں تبدیل کرنا ہی اس فلسفے کی اصل روح ہے۔
دبئی پولیس نے بھی ایک خصوصی ویڈیو جاری کی جس میں ابتدائی پولیس ٹریننگ اسکول سے لے کر جدید ٹیکنالوجی سے لیس عالمی معیار کے ادارے تک کے سفر کو دکھایا گیا۔ ادارے نے کہا، "جب عزم کے ساتھ عمل بھی شامل ہو تو ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے۔”
یہ اقدام صرف ماضی کی کامیابیوں کو یاد کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد آئندہ بھی دبئی میں تیز رفتار، معیاری اور مؤثر عمل درآمد کو ادارہ جاتی ثقافت بنانا ہے۔
اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم نے "دبئی اِٹ ایوارڈ” کے اجرا کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ سالانہ ایوارڈ ایسے افراد، منصوبوں، کمپنیوں اور اداروں کو دیا جائے گا جو جرات مندانہ خیالات کو بہترین معیار کے ساتھ ریکارڈ وقت میں عملی کامیابی میں تبدیل کریں گے۔







