
خلیج اردو
صحرا کے لیے مشہور ملک متحدہ عرب امارات اب دنیا کے سرد ترین خطوں میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لے رہا ہے۔ اماراتی سائنس دانوں کے مطابق آرکٹک اور انٹارکٹیکا دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی کے لیے ابتدائی وارننگ سسٹم کی حیثیت رکھتے ہیں۔
2023 میں امارات پولر پروگرام کے آغاز کے بعد متحدہ عرب امارات کے محققین انٹارکٹیکا اور آرکٹک میں پانچ سائنسی مہمات میں حصہ لے چکے ہیں۔ ان مہمات میں انٹارکٹیکا کے علاوہ سوالبارڈ میں آرکٹک ریسرچ اور جولائی 2026 میں گرین لینڈ کی پہلی اماراتی سائنسی مہم بھی شامل ہے۔
امارات پولر پروگرام کی محقق لولیا الکحطیب کے مطابق قطبی علاقے جغرافیائی طور پر متحدہ عرب امارات سے دور ہیں، لیکن ان کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ آرکٹک اور انٹارکٹیکا زمین کے موسم، سمندروں اور عالمی آب و ہوا کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اماراتی سائنس دان برفانی چادروں، گلیشیئرز، سمندری درجہ حرارت، فضائی حالات اور پرمافراسٹ کا مطالعہ کر رہے ہیں تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے عالمی اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے۔
محققین کے مطابق قطبی علاقوں میں ہونے والی تبدیلیاں سمندر کی سطح میں اضافے، موسم کے بدلتے انداز، سمندری گردش اور ساحلی علاقوں کو درپیش طویل مدتی خطرات پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ عالمی سطح پر سمندر کی سطح میں اضافے کی رفتار گزشتہ تین دہائیوں میں دوگنی ہوچکی ہے اور اب یہ تقریباً 4.5 ملی میٹر سالانہ تک پہنچ چکی ہے۔
امارات پولر پروگرام کے تحت ماحولیاتی سائنس، موسمیاتی تبدیلی، سمندری نظام، برفانی ماحول، موسمیات اور ماحولیاتی نگرانی کے شعبوں میں تحقیق کی جارہی ہے۔ اماراتی ادارے عالمی سائنسی اداروں کے ساتھ مل کر قطبی علاقوں میں موسم، زلزلوں، برف پگھلنے، سمندر کی سطح اور میتھین کی نگرانی سمیت مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
اماراتی حکام کے مطابق قطبی تحقیق سے ملک کی سائنسی صلاحیتوں میں اضافہ ہورہا ہے اور عالمی سطح پر بدلتے ہوئے ماحول کو سمجھنے اور مستقبل کے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے میں مدد مل رہی ہے۔







