متحدہ عرب امارات

’’اگر لوگ آپ کو آنکھوں سے دیکھیں تو آپ انہیں دل سے دیکھیں،شیخ محمد کا بیٹے شیخ حمدان کے نام محبت بھرا خط

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے اپنے بیٹے اور دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم کے لیے ایک دل کو چھو لینے والا خط تحریر کیا ہے۔

شیخ حمدان کو دبئی کی ایگزیکٹو کونسل کا چیئرمین مقرر کیے جانے کے 20 سال مکمل ہونے پر شیخ محمد نے اپنے بیٹے کی قیادت، کامیابیوں اور عوام سے مضبوط تعلق کو سراہا۔

شیخ محمد نے شیخ حمدان کو ’’عظیم اور سخی انسان‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انسانیت کا گہرا احساس رکھتے ہیں، نیکی کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں اور عزت و سخاوت کے کاموں کو خوش دلی سے اپناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شیخ حمدان میں عاجزی، ہمدردی، بہادری اور لوگوں کی ضروریات کو سمجھنے کی صلاحیت موجود ہے۔

شیخ محمد نے اپنے بیٹے کے بھائیوں کے ساتھ مضبوط تعلق کو بھی سراہا اور کہا کہ وہ اپنے بھائیوں کو عوام کی خدمت کے لیے سپورٹ، حوصلہ افزائی اور بااختیار بناتے ہیں۔

دبئی کے حکمران نے شیخ حمدان کو ایک عظیم والد، ذمہ دار بیٹے اور محبت کرنے والے اور سخی بھائی کی مثال قرار دیا۔

کامیابی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی بڑھتی ہیں

شیخ محمد نے کہا کہ شیخ حمدان کی کامیابی کے ساتھ قوم، نوجوانوں اور فوجیوں کے حوالے سے ان کی ذمہ داریاں بھی بڑھ رہی ہیں، جبکہ ملکی سرحدوں کی حفاظت بھی اہم ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دبئی اور اس کے عوام، معیشت، مسابقتی حیثیت اور عالمی سطح پر بڑھتے مقام کے حوالے سے شیخ حمدان کی ذمہ داریاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

شیخ محمد نے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ شیخ حمدان کے کام کو دیکھتے، ان سے متاثر ہوتے اور ان کی بصیرت اور حکمت پر اعتماد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حمدان ان تمام ذمہ داریوں کے اہل ہیں۔

انصاف حکمرانی کا بنیادی اصول ہے

شیخ محمد نے تقریباً چھ دہائیوں پر محیط حکمرانی اور سرکاری امور کے تجربے سے حاصل ہونے والے اسباق بھی اپنے بیٹے کے ساتھ شیئر کیے۔

انہوں نے کہا کہ وقت نے انہیں سکھایا ہے کہ لوگوں کو ایسا حکمران چاہیے جو حکمرانی کرنے سے پہلے ان کی بات سنے، سزا دینے سے پہلے رحم کرے، مانگنے سے پہلے دے اور لوگوں کو مجبور ہونے سے پہلے ان تک پہنچے۔

شیخ محمد نے زور دیا کہ انصاف حکمرانی کے مرکز میں ہونا چاہیے۔ انصاف کے قیام میں مضبوطی وقار اور رحم پیدا کرتی ہے، استحکام کو مضبوط کرتی ہے اور خوشحالی کی بنیاد رکھتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ناانصافی تاریکی لاتی، کامیابیوں کو کمزور کرتی اور پوری تہذیبوں کو پیچھے دھکیل سکتی ہے۔

سچے اور مخلص لوگوں کو اپنے قریب رکھیں

شیخ محمد نے شیخ حمدان کو مخلص، سچے اور بے لاگ مشورہ دینے والے لوگوں کو اپنے قریب رکھنے کی نصیحت بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ جھوٹ بولنے والا صرف حقیقت کو مسخ نہیں کرتا بلکہ اعتماد کو نقصان پہنچاتا، اپنے مشورے لینے والوں کے فیصلوں کو متاثر کرتا اور اسے سونپی گئی ذمہ داری سے خیانت کرتا ہے۔

اس کے برعکس سچا مشیر مشکل ہونے کے باوجود مخلصانہ مشورہ دیتا ہے اور وقتی طور پر تکلیف دہ سچائی اس خوش فہمی سے کہیں بہتر ہے جو مستقبل میں بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

’’اگر لوگ آپ کو آنکھوں سے دیکھیں تو آپ انہیں دل سے دیکھیں‘‘

شیخ محمد نے کہا کہ ان کی زندگی کا ایک اہم سبق حکمران اور عوام کے درمیان قریبی تعلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ رہنما جتنا عوام کے قریب رہتا ہے، استحکام اور خوشحالی کی بنیادیں اتنی ہی مضبوط ہوتی ہیں، کیونکہ عوام کی محبت حکمران کی طاقت کے ساتھ ساتھ ریاست کے لیے بھی تحفظ کا ذریعہ بنتی ہے۔

انہوں نے شیخ زاید اور شیخ راشد کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کی عوام سے محبت اور قریبی تعلق نے انہیں لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ دی۔

شیخ محمد نے شیخ حمدان پر زور دیا کہ وہ بھی اپنی قیادت میں قربت اور ہمدردی کی یہی روح برقرار رکھیں۔

انہوں نے اپنے بیٹے کو پیغام دیا:

’’اگر لوگ آپ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں تو آپ انہیں اپنے دل سے دیکھیں۔‘‘

شیخ حمدان کا والد کے نام جواب

شیخ حمدان نے بھی اپنے والد کے خط کا جواب دیتے ہوئے انہیں اپنا آقا، والد، استاد اور سہارا قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے لیے ایسے الفاظ تلاش کرنا مشکل ہے جو ان کے والد کے شایانِ شان ہوں، کیونکہ شیخ محمد ہی نے انہیں ذمہ داری، وطن اور ’’الفاظ سے پہلے عمل‘‘ کا مفہوم سکھایا۔

شیخ حمدان نے کہا کہ ’’آپ کے مکتب میں بیس سال قیادت کے مفہوم کی حقیقی تیاری تھے۔‘‘

انہوں نے والد کی جانب سے خراج تحسین پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ انسان جتنی بھی ذمہ داریاں اٹھائے اور کتنی ہی کامیابیاں حاصل کرے، والد کی رضا اور اطمینان سے بڑھ کر کوئی مقام نہیں۔

شیخ حمدان نے عہد کیا کہ وہ اپنے والد کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے اور ان سے سیکھی ہوئی تعلیمات پر قائم رہیں گے۔ انہوں نے اپنے والد کی صحت و سلامتی اور ان کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے دعا کے ساتھ پیغام اختتام پذیر کیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button