خلیج اردو
بھارتی ریاست کیرالا کے شہر کوژیکوڈ میں تین ماہ کے شیر خوار بچے میں نایاب بیماری پرائمری امیبی میننجوانسیفالائٹس (PAM) کی تشخیص ہوئی ہے، جو اب تک ریاست میں سب سے کم عمر مریض ہے۔ یہ بیماری عام طور پر آلودہ تالابوں، جھیلوں یا سوئمنگ پولز سے جڑی ہوتی ہے، تاہم ڈاکٹروں کو شبہ ہے کہ اس کیس میں وجہ ناک دھونے کا عمل ہے۔
ٹیسٹوں میں انکشاف ہوا کہ بچے کے دماغی رطوبت میں پائے جانے والے امیبا کی قسم گھر کے کنویں کے پانی سے مختلف ہے۔ بعدازاں تصدیق ہوئی کہ بچے کی ناک کنویں کے پانی سے دھوئی گئی تھی، جس میں امیبا کی آلودگی موجود تھی۔
اس معاملے میں پاکستان-کیمرج تحقیق کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ کراچی میں 14 برسوں تک کیے گئے مطالعے میں معلوم ہوا کہ زیادہ تر انفیکشنز تیراکی سے نہیں بلکہ ناک دھونے اور غیر محفوظ پانی کے استعمال سے جڑے تھے، بالکل اسی طرح جیسے کیرالا کا تازہ کیس ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پی سی آر یا جینیاتی ٹیسٹ کے بغیر حتمی طور پر امیبا کی قسم کی تصدیق ممکن نہیں، تاہم علاج سب کے لیے یکساں ہے اور اصل توجہ عوام میں شعور اجاگر کرنے پر ہونی چاہیے تاکہ آلودہ پانی سے ناک دھونے سے اجتناب کیا جا سکے۔
ڈاکٹروں نے ہدایت نامے اپ ڈیٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناک صرف جراثیم سے پاک، اُبالے ہوئے یا فلٹر شدہ پانی سے دھوئی جائے۔ متاثرہ بچہ اس وقت وینٹی لیٹر پر ہے جبکہ حکام عوام میں آگاہی مہم چلانے پر غور کر رہے ہیں۔







