متحدہ عرب امارات

امریکی ویزا حاصل کرنا مشکل: بچوں اور بزرگوں کے لیے بھی انٹرویو لازمی قرار

خلیج اردو
دبئی: امریکہ جانے کے خواہشمند افراد کو آئندہ ہفتے سے ویزا حاصل کرنے میں زیادہ سخت مراحل اور طویل قطاروں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 2 ستمبر 2025 سے متحدہ عرب امارات کے زیادہ تر رہائشیوں کے لیے نان امیگرنٹ ویزا درخواست پر انٹرویو لازمی ہوگا، چاہے وہ پہلے سے استثنیٰ کے اہل کیوں نہ رہے ہوں۔ اس فیصلے سے 14 سال سے کم عمر بچے اور 79 برس سے زائد عمر کے بزرگ بھی متاثر ہوں گے، جو اب تک انٹرویو سے خودکار طور پر مستثنیٰ تھے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے 25 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ کووڈ کے دوران متعارف کرائی گئی لچکدار پالیسی ختم کی جا رہی ہے اور پرانے سخت ضوابط دوبارہ نافذ ہوں گے۔ اس کے تحت:

* زیادہ تر درخواست گزاروں کو اب ابوظہبی کے امریکی سفارت خانے یا دبئی قونصل خانے میں ذاتی طور پر انٹرویو دینا ہوگا۔
* بچوں اور بزرگوں کے لیے عمر کی بنیاد پر استثنیٰ ختم کر دیا گیا ہے۔
* بزنس یا ٹورسٹ (B1/B2) ویزا کی تجدید پر انٹرویو سے چھوٹ صرف مخصوص شرائط پوری کرنے کی صورت میں دی جائے گی۔

صرف محدود کیٹیگریز جیسے سفارتی یا سرکاری ویزے رکھنے والے افراد کو انٹرویو سے استثنیٰ ملے گا۔ اس کے باوجود قونصلر افسران کسی بھی درخواست پر انٹرویو لینے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس پالیسی کے باعث یو اے ای میں رہنے والے بھارتی تارکین وطن، اماراتی شہری، کاروباری افراد اور طلبا سبھی کو زیادہ تاخیر اور سخت جانچ پڑتال کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ ویزا کے خواہشمند افراد کو اب زیادہ پہلے سے اپوائنٹمنٹ بک کرنی ہوگی، اضافی دستاویزات تیار رکھنا ہوں گی اور چھٹیوں یا سال کے آخر کے سفر کے لیے زیادہ محتاط منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔

امریکہ کی جانب سے یہ اقدام ٹرمپ دور کے سخت امیگریشن قوانین کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ وبا کے دنوں کے بعد "معیاری جانچ کے عمل” کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button