متحدہ عرب امارات

متروک نہیں، زندہ تاریخ: اماراتی ماہرین نے 1,200 سالہ نایاب نسخوں کو "زندگی” دے دی

خلیج اردو
شارجہ – 30 جون 2025ء

شارجہ آثار قدیمہ میوزیم کے ایک پُر سکون گوشے میں ایک ماہر شخص نہایت احتیاط سے کاغذ کے بوسیدہ اور پرانے ٹکڑوں کو جوڑ رہا ہے۔ یہ ٹکڑے 1,000 سے 1,200 سال پرانے نایاب مخطوطات کے ہیں، جنہیں جُمعہ المجید مرکز برائے ثقافت و ورثہ نے حاصل کیا ہے۔

یہ ماہر، جو جُمعہ المجید ٹیم کے ہمراہ شارجہ آیا، ہر ایک صفحے کے ذرے کو بچانے اور مکمل طور پر بحال کرنے کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ مرکز میں موجود سب سے قدیم نسخہ چوتھی صدی ہجری کا ہے، جس پر معروف اسلامی فقیہ امام مالک کا دستخط موجود ہے۔

جُمعہ المجید مرکز کے تحفظ، علاج اور بحالی کے شعبے کے سربراہ بسام داغستانی نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "تاریخی نسخے اور دستاویزات صدیوں پر محیط تاریخ رکھتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ حیاتیاتی اور کیمیائی نقصانات کا شکار ہوتے ہیں، جنہیں سنبھالنا ہماری ذمہ داری ہے۔”

بحالی کا مکمل عمل

بحالی کا عمل نسخے کو جراثیم، کیڑے مکوڑوں یا دیگر باقیات سے پاک کرنے کے لیے جراثیم کشی سے شروع ہوتا ہے۔ اس میں ایسے ماحول دوست مواد استعمال کیے جاتے ہیں جو انسان، پودوں، جانوروں یا خود نسخے کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتے۔ اس کے بعد نسخے کو خشک اور گیلا دونوں طریقوں سے صاف کیا جاتا ہے۔

اصل مہارت کا مظاہرہ اس کے بعد ہوتا ہے، جب ماہر قدرتی مواد کی مدد سے پرانے اور نئے ٹکڑوں کو ہاتھ سے نہایت باریکی سے جوڑتا ہے تاکہ اصل ساخت برقرار رہے۔ بعد ازاں "کاسٹنگ” کا عمل کیا جاتا ہے، جس سے نسخہ ایک مربوط شکل اختیار کر لیتا ہے اور ماضی کے طرز کو بحال کیا جاتا ہے۔ "سوئی دھاگہ، ریشمی دھاگہ، چمڑا، کپڑا — سب کچھ قدرتی ہوتا ہے اور بالکل وہی انداز اپنایا جاتا ہے جو صدیاں پہلے رائج تھا”، داغستانی نے وضاحت کی۔

محفوظ ذخیرہ، اصل تحفظ

"کاسٹنگ” کے بعد نسخہ مرکز کے گودام میں منتقل کیا جاتا ہے جہاں درجہ حرارت، نمی، روشنی اور صفائی کے سخت اصول اپنائے جاتے ہیں۔ داغستانی نے کہا، "ذخیرہ کرنے کا طریقہ سب سے اہم ہوتا ہے، کیونکہ یہی اصل حفاظت ہے۔”

بحالی میں لگنے والا وقت

نسخے کی حالت کے مطابق بحالی کا وقت مختلف ہوتا ہے۔ اگر نسخہ شدید متاثر ہو تو اس کی بحالی میں چھ ماہ تک لگ سکتے ہیں، جبکہ بہتر حالت میں ہونے پر 10 دن میں مکمل ہو سکتی ہے۔

گھریلو لائبریریوں کے لیے مشورہ

داغستانی نے مشورہ دیا کہ پرانی کتابیں ایسی جگہ رکھیں جہاں نہ زیادہ گرمی ہو اور نہ ہی ٹھنڈک۔ "سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہیں سورج کی روشنی سے دور رکھیں، کیونکہ سورج کی شعاعیں کاغذ کو تباہ کر دیتی ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button