متحدہ عرب امارات

سقطریٰ جزیرے پر پروازیں معطل، سیکڑوں سیاح پھنس گئے

خلیج اردو
یمن کے دور افتادہ جزیرے سقطریٰ پر پروازوں کی معطلی کے بعد درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں غیر ملکی سیاح پھنس گئے ہیں۔ خطے میں کشیدہ صورتحال کے باعث ہنگامی حالت نافذ کی گئی اور فضائی آپریشن روک دیا گیا، جس کے بعد جزیرے پر موجود سیاح واپسی کے حوالے سے شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔

سیاحوں کی درست تعداد مختلف رپورٹس میں مختلف بتائی جا رہی ہے۔ ایک خبر رساں ادارے کے مطابق تقریباً 600 سیاح سقطریٰ میں پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ دوسرے ذرائع کے مطابق 416 کے قریب غیر ملکی سیاح موجود ہیں جن میں روس، فرانس، امریکہ اور برطانیہ کے شہری شامل ہیں۔

سقطریٰ جزیرہ یمن کے ساحل سے 300 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے اور اپنی منفرد قدرتی خوبصورتی، نایاب نباتات اور یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج کا درجہ رکھنے کے باعث دنیا بھر کے مہم جو سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ اب تک یہ جزیرہ زیادہ تر متحدہ عرب امارات کے راستے فضائی سفر سے قابلِ رسائی تھا۔

جزیرہ اس وقت سدرن ٹرانزیشنل کونسل کے زیر انتظام ہے، جبکہ یمن کے مختلف علاقوں میں اس کونسل اور حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں۔

کئی سیاحوں نے سوشل میڈیا پر اپنی مشکلات بیان کی ہیں۔ ڈچ نژاد پولش شہری گیریٹ فان وائی نگارڈن کا کہنا ہے کہ ان کا قیام مجبوری کے تحت طویل ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق 700 کے قریب افراد سقطریٰ میں پھنسے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ واپسی کے دو راستے ہیں — کشتی کے ذریعے عمان کے صلالہ جانا یا پھر کسی نامعلوم وقت پر ملنے والی پرواز کا انتظار کرنا۔

جزیرے پر سیاحوں کو نقد رقوم کی کمی کا سامنا ہے کیونکہ اے ٹی ایمز اور ادائیگی کے الیکٹرانک نظام موجود نہیں۔ متعدد افراد نے خدشہ ظاہر کیا کہ رقم ختم ہونے کے بعد انہیں مقامی لوگوں کی مدد پر انحصار کرنا پڑے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے حال ہی میں یمن کے لیے ہر قسم کے سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ سقطریٰ سمیت پورے ملک میں امریکی شہریوں کو قونصلر خدمات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔

تاہم ایک تازہ پیش رفت میں مقامی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ یمنیہ ایئرویز کی پروازوں کے ذریعے سیاحوں کو جلد عدن اور پھر جدہ منتقل کیا جائے گا، جس کے بعد وہ اپنے اپنے ممالک جا سکیں گے۔

گزشتہ برسوں میں سقطریٰ ایک پرکشش سیاحتی مقام کے طور پر ابھرا تھا، جہاں شفاف پانی، سفید ریتلے ساحل اور انوکھا قدرتی ماحول دنیا بھر کے مسافروں کو اپنی طرف متوجہ کرتا رہا ہے۔ لیکن حالیہ کشیدگی نے اس حسین جزیرے کو عارضی طور پر تنہائی سے نکال کر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button