
خلیج اردو
امریکہ نے شمالی بحرِ اوقیانوس میں روسی پرچم بردار تیل بردار جہاز کو قبضے میں لینے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ یہ جہاز مبینہ طور پر پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وینزویلا، روس اور ایران کے لیے تیل لے جانے والے ’’شیڈو فلیٹ‘‘ کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق مذکورہ آئل ٹینکر وینزویلا کے قریب جزوی گھیراؤ سے نکلنے کے بعد شمالی اوقیانوس کی جانب بڑھ رہا تھا اور بدھ کے روز اسے آئس لینڈ کے خصوصی معاشی زون کے قریب دیکھا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز بار بار شناخت اور ٹریکنگ سے بچنے کی کوشش کرتا رہا اور اس کا مقصد پابندیوں سے بچ کر تیل کی ترسیل جاری رکھنا تھا۔
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی امریکی پابندیوں کے نفاذ کو یقینی بنانے اور غیر قانونی تیل برداری کے خلاف کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف عالمی پابندیوں کی خلاف ورزی ہیں بلکہ مالی لین دین کے خفیہ نیٹ ورکس کو بھی تقویت دیتی ہیں۔
امریکی اداروں کے مطابق یہ جہاز پہلے بھی شناخت بدلنے اور جھنڈا تبدیل کرنے جیسی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے تاکہ نگرانی سے بچ سکے۔ اس کارروائی کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان سفارتی تناؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ جہاز روسی پرچم کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے آپریشنز مستقبل میں بھی جاری رہیں گے تاکہ پابندیوں کے دائرہ کار سے باہر تیل تجارت کے خفیہ نظام کو روکا جا سکے۔






