
خلیج اردو
ابو ظہبی پولیس کی جانب سے ای اسکوٹر کے غیر ذمہ دارانہ استعمال پر جاری کردہ ویڈیو نے امارات بھر میں حفاظتی اقدامات، قوانین کے نفاذ اور سخت ضوابط کی ضرورت پر بحث کو تیز کر دیا ہے۔
ویڈیو میں دکھایا گیا کہ تین افراد کاندورہ پہنے ای اسکوٹرز پر ان علاقوں میں تیز رفتاری سے سفر کر رہے ہیں جو اس کے لیے موزوں نہیں۔ پولیس نے عوام پر زور دیا کہ ای اسکوٹر صرف مخصوص اور محفوظ مقامات پر استعمال کریں۔
دبئی کے جمیرا علاقے کی رہائشی ام سعید نے بتایا کہ وہ کریانے کی دکان جا رہی تھیں جب ایک ای اسکوٹر سوار اچانک کھڑی گاڑیوں کے درمیان سے نکل آیا اور تقریباً ان سے ٹکرا گیا۔ ان کے مطابق کئی سوار پیدل چلنے والے علاقوں میں تیز رفتاری سے گزرتے ہیں، اکثر فون دیکھ رہے ہوتے ہیں یا ہیڈ فون لگائے ہوتے ہیں اور اردگرد کے ماحول پر دھیان نہیں دیتے۔
راس الخیمہ کے احمد عیسیٰ المنصوری نے بتایا کہ رات کے وقت ایک بچہ بغیر لائٹ اور حفاظتی سامان کے اچانک ان کی گاڑی کے سامنے ای اسکوٹر پر آ گیا۔ انہوں نے بمشکل بریک لگا کر ٹکر سے بچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اسکوٹرز کی رفتار تیز ہے اور قوانین پر عمل نہیں ہو رہا، لہٰذا عمر کی حد، مخصوص راستے اور رفتار کی پابندی کے قوانین بننے چاہییں۔
شارجہ کے سید احمد نے کہا کہ ای اسکوٹر سواروں کی غیر متوقع حرکات سب سے بڑا مسئلہ ہیں، کیونکہ ان کی رفتار اور سمت کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ابو ظہبی پولیس نے شہریوں کو ای اسکوٹر ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے، ٹریفک قوانین کا احترام کرنے اور پیدل چلنے والوں کے علاقوں کا تحفظ یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ حکام نے خاندانوں اور اسکولوں پر زور دیا کہ بچوں اور نوجوانوں کو محفوظ سواری کے اصول سکھانے میں کردار ادا کریں۔
کئی کم عمر سوار بھی اس بات سے متفق ہیں کہ مزید آگاہی ضروری ہے۔ کمسن یومنا سلیمان نے بتایا کہ وہ ایک بار دوسرے سوار سے بال بال بچیں کیونکہ سامنے والا روشنی کے بغیر آرہا تھا۔ ان کے مطابق لائٹ، ہیلمٹ اور ہجوم والے علاقوں میں رفتار کم کرنا لازمی حفاظتی اقدامات ہیں جنہیں اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔






