
خلیج اردو
یو اے ای میں آف روڈنگ کے شوقین گرمیوں کو اپنی گاڑیوں کی تیاری کا موسم سمجھتے ہیں، جہاں کچھ افراد 10 ہزار سے لے کر 80 ہزار درہم تک کی اپ گریڈز پر خرچ کرتے ہیں۔ دبئی کے بوبی ٹام پوتھن ویتل نے اپنی جیپ رانگلر پر اب تک دو لاکھ درہم سے زائد کے شاکس، پاورفل ایل ای ڈی لائٹس، لفٹ کٹس، سسپنشن اپ گریڈز اور ریکوری ٹولز نصب کیے ہیں، تاکہ اکتوبر سے مارچ تک صحرا اور پہاڑوں میں ایڈونچر کا لطف اٹھا سکیں۔
دبئی میں آف روڈ موٹرز گیراج کے مالک محمد مجیب کے مطابق اس وقت ورکشاپس بھری ہوئی ہیں اور کئی ہفتوں کے لیے پیشگی بکنگ ہو رہی ہے۔ اپ گریڈز میں صرف ظاہری تبدیلیاں نہیں بلکہ سسپنشن، انجن اپ گریڈ، ہیوی ڈیوٹی بوشنگز، مضبوط انڈر باڈی آرمز، خصوصی ٹائر و رمز اور ہزاروں درہم کی لائٹنگ سسٹمز شامل ہیں۔ اوور لینڈرز اکثر اپنی گاڑیوں میں فرج، ایئر کمپریسر اور کافی اسٹیشن بھی لگواتے ہیں تاکہ لمبے سفر میں آرام میسر ہو۔
راس الخیمہ اور لیوا کے مہم جو، جیسے سالم علی، اپنی گاڑیوں کو سخت چڑھائیوں، نرم ریت اور لمبے سفر کے لیے مضبوط ایکسل، لفٹڈ سسپنشن، اضافی فیول ٹینکس اور منی کچن سے لیس کرتے ہیں۔ سالم کے مطابق اصل یو اے ای وہ ہے جو شاہراہوں سے ہٹ کر وادیوں، نخلستانوں اور ان چھوئے ہوئے ٹیلوں میں نظر آتا ہے۔
یو اے ای میں بعض گاڑی کی تبدیلیاں قانوناً ممنوع ہیں، جیسے غیر منظور شدہ چیسز یا باڈی اسٹرکچر میں تبدیلی، حد سے زیادہ لفٹ کٹس، شور پیدا کرنے والے ایگزاسٹ سسٹمز، غیر قانونی لائٹنگ، 50 فیصد سے زائد شیشے کا ٹنٹ اور ایئر بیگز ہٹانا۔ خلاف ورزی پر بھاری جرمانے، بلیک پوائنٹس اور گاڑی ضبطی کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔







