
خلیج اردو
دبئی: دبئی ساؤتھ کے علاقے میں واقع عزیری وینس تعمیراتی منصوبے پر شدید گرمی میں کام کرتے مزدوروں کے چہروں پر اس وقت خوشی جھلکنے لگی جب انہیں ال فریج فریج انسانی خدمت مہم کے تحت ٹھنڈا پانی، جوس اور آئس کریم فراہم کی گئی۔
یہ مہم، جو اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، دبئی میں سخت موسمِ گرما کے دوران مزدوروں کو راحت پہنچانے کے لیے شروع کی گئی ہے، جس کا مقصد ڈی ہائیڈریشن اور ہیٹ اسٹروک جیسے خطرات کو کم کرنا ہے۔ مہم کا ہدف دو ملین ٹھنڈی اشیاء کی تقسیم ہے، اور یہ محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشی ایٹوز کی سرپرستی میں فرجان دبئی، سقیا اور یو اے ای فوڈ بینک کے اشتراک سے جاری ہے۔
بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے اسٹیل فکسر محمد ریاض نے آم کے ٹھنڈے جوس کی بوتل پکڑے ہوئے بتایا،
"میں گزشتہ چھ سال سے دبئی میں کام کر رہا ہوں۔ دھوپ میں اسٹیل کی چھڑیاں کاٹنا اور فکس کرنا بہت تھکا دینے والا کام ہے۔ بعض اوقات گرمی سے چکر آ جاتے ہیں، مگر آج یہ ٹھنڈا جوس کسی نعمت سے کم نہیں لگا۔ یہ ہمیں کام جاری رکھنے کی توانائی دیتا ہے۔”
نیپال سے تعلق رکھنے والے لال بہادر نے عارضی سایہ میں بیٹھے ہوئے مسکراتے ہوئے آئس کریم کھاتے ہوئے کہا،
"جب اتنی گرمی میں اوپر نیچے چڑھتے ہیں تو ہیلمٹ بھی تندور جیسا لگتا ہے۔ یہ چھوٹا سا عمل بہت بڑی بات ہے۔ ہم زیادہ کچھ نہیں کہتے، مگر دل سے محسوس کرتے ہیں۔”
پاکستانی صفائی ورکر عظیم خان، جو روزانہ ملبے اور دھول کے بیچ میں آٹھ ہزار سے زائد قدم چلتے ہیں، نے بتایا،
"دوپہر تک میری قمیض مکمل بھیگ جاتی ہے اور جسم میں توانائی نہیں رہتی۔ جوس، پانی اور آئس کریم بالکل وقت پر ملی۔ آئس کریم نے تو مجھے اپنے بچوں کی یاد دلا دی۔”
اس مہم میں درجنوں رضاکاروں نے بھی حصہ لیا، جو مزدوروں کے ساتھ دھوپ میں کھڑے ہو کر ان تک مشروبات اور ٹھنڈے لوازمات پہنچاتے رہے تاکہ کوئی پیچھے نہ رہ جائے۔
ال فریج فریج مہم 23 اگست تک جاری رہے گی، جس کے تحت صفائی، باغبانی، ڈیلیوری اور تعمیرات کے شعبوں سے وابستہ ہزاروں کارکنوں کو گرمی سے فوری ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس مہم کا مقصد صرف جسمانی سکون نہیں، بلکہ ایک بڑا پیغام دینا ہے کہ مشکل دنوں میں ہمدردی اور خیال رکھنے کا جذبہ کتنی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔







