
خلیج اردو
کولکتہ:بھارتی شہر کولکتہ میں ایک قانون کی طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے الزام میں پولیس نے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ واقعے نے ایک بار پھر شہر میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر غم و غصے کو جنم دیا ہے، جہاں گزشتہ برس ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعے نے بھی ملک بھر میں احتجاج کو جنم دیا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق متاثرہ طالبہ نے بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کی شام کالج کے احاطے میں ایک کمرے کے اندر پیش آیا، جہاں تین ملزمان نے زیادتی کی۔ ملزمان میں دو موجودہ اور ایک سابق طالبعلم شامل ہے۔
ریاست مغربی بنگال میں برسر اقتدار آل انڈیا ترنمول کانگریس (AITC) نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ "قانون کی پوری طاقت لاگو کی جائے گی”۔
یہ واقعہ بھارت میں جنسی تشدد کے مستقل مسئلے کو پھر اجاگر کر رہا ہے، جہاں صرف 2022 میں روزانہ اوسطاً 90 سے زائد زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔
اس کیس نے ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) اور ریاستی حکومت کے درمیان سیاسی کشمکش کو ہوا دی ہے۔ بی جے پی نے مغربی بنگال کی حکومت پر خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کا الزام لگایا اور کہا کہ "ریاست خواتین کے خلاف جرائم کا گڑھ بن چکی ہے، ریاستی مشینری اپنی بیٹیوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے”۔ تاہم ترنمول کانگریس نے یہ الزامات مسترد کر دیے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب کولکتہ کی ایک عدالت نے رواں سال جنوری میں ایک 31 سالہ ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی اور قتل کے مجرم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ مذکورہ ڈاکٹر کو اگست 2024 میں ایک سرکاری اسپتال میں قتل کیا گیا تھا، جس کے بعد شہر بھر میں شمع بردار ریلیاں اور ملک گیر احتجاج دیکھنے میں آیا تھا۔
اس بہیمانہ واقعے کی شدت کو دہلی میں 2012 میں بس میں ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور قتل سے تشبیہ دی جا رہی ہے، جس نے پورے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔







