
خلیج اردو
بھارتی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات سمیت چار ممالک میں قونصلر خدمات آؤٹ سورس کرنے کے ٹینڈر کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ ٹینڈر جاری کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
بھارتی حکومت کے وکیل نے جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں مقدمہ جلد سماعت کے لیے پیش کیا، جس پر عدالت نے پیر کو کیس سننے پر آمادگی ظاہر کی۔
چند روز قبل دہلی ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ متحدہ عرب امارات، کویت، سنگاپور اور آسٹریلیا میں بھارتی سفارتی مشنز کے لیے قونصلر خدمات کے آؤٹ سورسنگ کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے۔
اس فیصلے کے بعد قونصلر خدمات متاثر ہوئیں، خاص طور پر یو اے ای میں جہاں 35 لاکھ سے زائد بھارتی شہری مقیم ہیں۔ سابق سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں BLS International اور SGIVS Global کے معاہدے 30 جون کو ختم ہونے کے بعد یکم جولائی سے دبئی میں بھارتی قونصل خانے اور ابوظہبی میں بھارتی سفارت خانے نے براہِ راست پاسپورٹ، ویزا اور دیگر قونصلر خدمات سنبھال لی تھیں۔ یہ گزشتہ 17 برسوں میں پہلی مرتبہ ہوا کہ بھارتی مشنز نے خود یہ خدمات انجام دینا شروع کیں۔
نئے نظام کے تحت صرف پیشگی اپائنٹمنٹ کے ذریعے خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ محدود تعداد میں وقت دستیاب ہونے کے باعث درخواست گزاروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم متعدد بھارتی شہریوں نے دبئی میں بھارتی قونصل خانے اور ابوظہبی میں بھارتی سفارت خانے کے عملے کی خدمات کو سراہا ہے۔
یہ تنازع نومبر 2025 میں جاری کیے گئے اس ٹینڈر سے شروع ہوا تھا، جس کے تحت پاسپورٹ، ویزا اور دستاویزات کی تصدیق کی خدمات نجی کمپنی کو سونپی جانی تھیں۔ ٹینڈر میں Alhind Tours and Travels LLC کامیاب قرار پائی، تاہم ناکام بولی دہندگان E Trav Tech اور Verasys نے دہلی ہائی کورٹ میں ٹینڈر کے طریقہ کار کو چیلنج کر دیا۔
دہلی ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے وزارتِ خارجہ کو ایک ماہ کے اندر دوبارہ ٹینڈر جاری کرنے کا حکم دیا، جبکہ بھارتی حکومت نے سپریم کورٹ میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس فیصلے کے باعث قونصلر خدمات تقریباً غیر مؤثر ہو گئی ہیں کیونکہ نئی کمپنی کو کام سنبھالنے سے روک دیا گیا جبکہ پرانے معاہدے بھی ختم ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب، یو اے ای میں Alhind کے 16 سے زائد مراکز مکمل طور پر تیار ہونے کے باوجود تاحال فعال نہیں ہو سکے، جبکہ سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے فیصلے تک یو اے ای میں مقیم لاکھوں بھارتی شہری غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔







