متحدہ عرب امارات

بھارتی روپے کی ریکارڈ تنزلی، یو اے ای اور خلیجی ممالک سے ترسیلات زر میں اضافہ

خلیج اردو
دبئی: امریکی ڈالر کے مقابلے میں بھارتی روپے کی تاریخی گراوٹ نے یو اے ای سمیت خلیجی ممالک میں مقیم بھارتی تارکین کو ترسیلات زر بڑھانے پر آمادہ کردیا ہے۔ درہم کی ڈالر سے جڑت کے باعث روپے کی کمزوری مزید نمایاں ہوگئی ہے، جس سے تارکین کو زیادہ فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔

جمعہ کو روپیہ 88.30 کی سطح سے نیچے گر گیا، جو اب تک کی سب سے بڑی تنزلی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ گراوٹ امریکی حکومت کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کے بعد سامنے آئی، جس نے بھارت کے تجارتی خسارے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر ڈالا ہے۔

اگرچہ ماہرین کو توقع ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) مداخلت کے ذریعے استحکام لانے کی کوشش کرے گا، لیکن امکان ہے کہ کرنسی کو بتدریج کمزور رہنے دیا جائے تاکہ برآمدات کو مسابقتی برتری حاصل رہے۔

دوسری جانب خلیجی ممالک میں مقیم بھارتی کمیونٹی کے لیے روپے کی گراوٹ نفع بخش ثابت ہوئی ہے۔ یو اے ای میں معروف ترسیلاتی ادارے الانصاری ایکسچینج کے مطابق حالیہ دنوں میں بھارت بھیجی جانے والی ترسیلات میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر علی النجار نے بتایا کہ "روپے کی قدر میں کمی بھارتی کمیونٹی کے لیے ایک قیمتی موقع ہے تاکہ وہ اپنی ترسیلات کو زیادہ سے زیادہ کر سکیں۔”

فی الحال روپیہ درہم کے مقابلے میں 24.03 کی سطح پر ہے، جو رواں سال کے آغاز کے مقابلے میں نمایاں طور پر کمزور ہے۔ اس فرق سے تارکین زر اپنے اہل خانہ کے اخراجات پورے کرنے، قرضے چکانے اور بھارت میں جائیداد یا تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے کے قابل ہو رہے ہیں۔

صرف الانصاری ہی نہیں بلکہ دیگر اداروں نے بھی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث اپنے آپریشنز میں اضافہ کیا ہے، جس میں برانچوں پر نقدی کی فراہمی میں اضافہ، اوقات کار بڑھانا اور ترسیلات پر رعایتی فیس کی پیشکش شامل ہے۔

ورلڈ بینک کے مطابق بھارت نے 2024 میں ریکارڈ 125 ارب ڈالر کی ترسیلات وصول کیں جن میں سے بیشتر خلیجی ممالک سے آئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر روپے پر دباؤ برقرار رہا تو 2025 میں بھی یہ ریکارڈ ٹوٹ سکتا ہے۔

اگرچہ ترسیلات زر بھارت کے بیرونی کھاتوں کو سہارا دینے میں مددگار ہیں، لیکن ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ بلند تیل کی قیمتوں اور بڑھتے ہوئے درآمدی بل کے باعث تجارتی خسارہ مزید وسیع ہوسکتا ہے، جس سے روپے پر دباؤ قائم رہے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button