
خلیج اردو
دبئی: دبئی میں رمضان کے دوران فضائی دفاعی نظام کی کارروائی دیکھی گئی، رہائشیوں نے دھماکوں کی آوازیں سنیں، محدود نقصانات رپورٹ ہوئے جبکہ افواہوں سے بچنے کی ہدایت جاری کی گئی۔
دبئی میں مقیم ایک صحافی نے ایرانی حملوں کے بعد رمضان کی ایک شام کے دوران پیش آنے والے مناظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ بیس برس سے یہاں مقیم ہیں اور اب یہ شہر ان کا گھر بن چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہفتے کی دوپہر Business Bay میں اپنے اپارٹمنٹ میں موجود تھے کہ اچانک کھڑکیوں سے دور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ ابتدا میں اسے تعمیراتی سرگرمی سمجھا گیا تاہم کچھ دیر بعد ڈرون اور میزائل حملوں سے متعلق پیغامات موصول ہونا شروع ہو گئے۔
اہلِ خانہ کے ساتھ Mudon میں افطار کی دعوت پر جانے سے متعلق تذبذب کے باوجود انہوں نے سرکاری اپڈیٹس دیکھنے کے بعد جانے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق سڑکوں پر ٹریفک معمول کے مطابق تھا، ریستوران بھرے ہوئے تھے اور رمضان کی شام عام دنوں جیسی محسوس ہو رہی تھی۔
افطار کے بعد جب وہ صحن میں نکلے تو صاف آسمان پر اچانک روشنی کی ایک لکیر نمودار ہوئی جس کے چند سیکنڈ بعد دھیمی دھماکے کی آواز سنائی دی۔ ایک شخص نے کہا، "یہ انٹرسیپشن ہو رہی ہے”، جس کے بعد گفتگو کچھ دیر کیلئے رک گئی۔
صحافی کے مطابق کچھ دیر بعد عزیز و اقارب کی جانب سے فون کالز موصول ہونا شروع ہو گئیں جبکہ بھارت سے چند سابق ساتھیوں نے ٹی وی پر تبصرے کیلئے رابطہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کئی ویڈیوز مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ یا پرانی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ پروازوں میں خلل کے باوجود متاثرہ مسافروں کو ہوٹل میں قیام اور بعض صورتوں میں عارضی ویزا توسیع فراہم کی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق Palm Jumeirah کے قریب ایک ہوٹل کے نزدیک آگ لگنے سے چار افراد زخمی ہوئے جبکہ ایئرپورٹ کے ایک حصے کو نقصان پہنچنے سے چار عملہ بھی زخمی ہوا۔
کچھ رہائشیوں نے احتیاطاً دوسرے امارات منتقل ہونے پر غور کیا تاہم بیشتر افراد نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اپنے گھروں میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ مجموعی طور پر حالات قابو میں رہے مگر واقعہ نے شہریوں میں تشویش ضرور پیدا کی۔






