متحدہ عرب امارات

ردن میں چرچ پر دہشت گردانہ حملے کے دوران مسلح حملہ آور نے قریب سے ایک وکیل پر پستول تان کر فائرنگ کی، جبکہ اس کا بیٹا بھی ٹانگ میں گولی لگنے سے زخمی ہوگیا۔

خلیج اردو
اردن میں چرچ پر دہشت گردانہ حملے کے دوران مسلح حملہ آور نے قریب سے ایک وکیل پر پستول تان کر فائرنگ کی، جبکہ اس کا بیٹا بھی ٹانگ میں گولی لگنے سے زخمی ہوگیا۔ حملے میں 8 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے، واقعے کے بعد ملک بھر میں سکیورٹی سخت کردی گئی۔

اردن کے علاقے کرک میں واقع یونانی آرتھوڈوکس حمود چرچ میں جمعے کے روز دعائیہ تقریب شروع ہوئی تو ناصر البرقان نے ابتدا میں دھماکوں کی آواز کو ایئر کنڈیشنر پھٹنے کا واقعہ سمجھا، تاہم مسلسل دھماکوں کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ فائرنگ کی جا رہی ہے۔

ناصر البرقان کے مطابق فائرنگ شروع ہونے پر کچھ افراد جان بچانے کے لیے بھاگے، جبکہ بعض زخمی افراد نے چرچ کے اندر پناہ لینے کی کوشش کی۔ وہاں ان کے ایک رشتہ دار کی نماز جنازہ بھی ادا کی جا رہی تھی۔ حملہ آوروں کی فائرنگ کئی منٹ تک جاری رہی، جس کے بعد انہیں دو مشتبہ افراد دکھائی دیے، جن میں سے ایک نے چہرہ ڈھانپ رکھا تھا جبکہ دوسرا پستول لیے ہوئے تھا۔

ناصر البرقان نے بتایا کہ ایک حملہ آور ان سے تقریباً دو میٹر کے فاصلے پر کھڑا تھا، جس نے ان پر پستول تان کر فائرنگ کردی۔ ٹوٹے ہوئے شیشے کے ٹکڑے لگنے سے ان کے چہرے پر خون آ گیا، تاہم انہوں نے طبی امداد کی پیشکش کرنے والوں کو بتایا کہ وہ ٹھیک ہیں۔

کچھ دیر بعد ان کے بیٹے نے فون کرکے بتایا کہ اسے ٹانگ میں گولی لگی ہے اور اسپتال میں اس کا علاج جاری ہے۔ واقعے نے اردن کی مسیحی اقلیت سے تعلق رکھنے والی مقامی برادری کو شدید صدمے سے دوچار کردیا۔ یہ چرچ دارالحکومت عمان سے تقریباً 120 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے حملے کے چند گھنٹے بعد کرک کا دورہ کیا اور ذمہ داروں کو آہنی ہاتھوں سے سزا دینے کا اعلان کیا۔ حکام کے مطابق حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے اور فی الحال یہ تعین نہیں ہوسکا کہ ان کے روابط اردن یا بیرون ملک کسی تنظیم سے تھے یا نہیں۔ کسی گروپ نے فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

امریکی سفارت خانے کے مطابق ہفتے کے روز اردن بھر میں شاپنگ مالز، غیر ملکی سفارت خانوں اور دیگر مقامات پر سکیورٹی بڑھا دی گئی، جبکہ حکام مسلح حملہ آوروں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button