خلیج اردو آن لائن:
دبئی کی ایک لاء فرم کے ایک نمائندے پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے نوکری سے نکالے جانے کے بعد فرم سے دو چیک چوری کیے اور پھر ان کے ذریعے 1 لاکھ 90 ہزار درم بینک سے نکلوا لیے۔
ڈیرا بپلک پراسکیوشن کے سینئر پراسیکیوٹر فہد عبدالعزیز الزارونی کا کہنا تھا کہ نمائندے نے چیک چوری کرنے کے بعد ان پر جعلی دستخط کر کے رقم نکلوائی۔
فہد عبدالعزیز نے ایک بیان مین بتایا کہ مدعا علیہ ” کو اس کی کمپنی نے واقعے سے دو ہفتے پہلے نوکری سے نکال دیا تھا، اور اسے پنشن بھی دی گئی اور اس کا رہائشی اور لیبر کارڈ کینسل ہو چکا تھا”۔
پراسیکیوٹر کے مطابق مدعاعلیہ نے نوکری سے نکالے جانے کے بعد چوری کرنے کا پلان بنایا، اور جس دن اس نے بینک سے پیسے نکلوائے اسی دن ہی اس کا ملک سے نکل جانے کا منصوبہ تھا لیکن آجر نے فوری پولیس کو اطلاع کردی جس پر ملزم پکڑا گیا۔
کمپنی کو رقم چوری ہونے کا کیسے پتہ چلا؟
جب بینک سے رقم نکوائی گئی تو کمپنی کو میسج موصول ہوا کہ اس شخص نے بینک سے 1 لاکھ 90 ہزار درہم نکوائے ہیں، اور جب فرم کے اکاؤنٹنٹ نے چیک دیکھی تو اس میں سے دو چیک غائب تھے۔ جس سے کمپنی کو پتہ چل گیا۔
مدعالیہ نے چیکوں پر جعلی دستخط کر کے بینک سے رقم نکوائی۔ تاہم، پراسیکوشن نے ملزم پر چوری اور جعلی دستاویزات کے استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ ٹرائل کے لیے دبئی کی ابتدائی عدالت بھیج دیا ہے۔
Source: Gulf News






