متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں غیر مصدقہ طبی دعوؤں پر مبنی اشتہار کے خلاف قانونی کارروائی

خلیج اردو
ابوظبی: یو اے ای میڈیا کونسل نے ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے جس نے ایک پروڈکٹ کو طبی و علاجی دعوؤں کے ساتھ پروموٹ کیا تھا، جو نہ تو سائنسی طور پر ثابت تھے اور نہ ہی متعلقہ صحت حکام سے منظور شدہ۔ میڈیا کونسل کے مطابق اس اشتہار میں گمراہ کن مواد شامل تھا جو منظور شدہ میڈیا معیارات کی خلاف ورزی ہے۔

یہ اقدام میڈیا ریگولیشن لا کے ایگزیکٹو ریگولیشنز کے تحت کیا گیا ہے جو ملک میں اشتہاری مواد کو ریگولیٹ کرتے ہیں۔ کونسل نے واضح کیا ہے کہ قانون کے مطابق تمام ضروری قانونی اقدامات کیے گئے ہیں۔

میڈیا کونسل نے کہا کہ وہ ڈیجیٹل اشتہارات پر اپنی نگرانی جاری رکھے گی اور تمام مشتہرین اور انفلوئنسرز سے اپیل کی کہ وہ قوانین پر مکمل عمل کریں۔ نئے میڈیا قانون کے مطابق جھوٹی یا نقصان دہ معلومات شائع کرنے پر 5 ہزار سے 1 لاکھ 50 ہزار درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے، جبکہ بار بار خلاف ورزی کی صورت میں زیادہ سخت سزائیں یا سرگرمیوں کی معطلی بھی ممکن ہے۔

قانون کے تحت ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو میڈیا مواد کے معیار کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لے کر سماجی، معاشی یا سیاسی نقصان کی بنیاد پر جرمانے عائد کرتی ہے۔ تاہم خلاف ورزی کرنے والے کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ 15 دن کے اندر اپیل کر سکے۔

قانون کے مطابق طبی اور علاجی اشتہارات پر خصوصی ضابطے لاگو ہیں، اور کسی بھی پروڈکٹ کو پروموٹ کرنے سے پہلے وزارتِ صحت و تحفظ کی منظوری لازمی ہے۔ مبالغہ آرائی یا غلط طبی دعوے سختی سے ممنوع ہیں۔

کونسل نے رواں سال جولائی میں "ایڈورٹائزر پرمٹ” بھی متعارف کرایا تھا، جس کے تحت انسٹاگرام، فیس بک یا واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز پر اشتہار دینے کے لیے پرمٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ نئے قانون کے مطابق انفلوئنسرز اور مواد تخلیق کاروں کو لائسنس یافتہ میڈیا اداروں کے برابر سمجھا جاتا ہے اور انہیں بھی مواد کے معیار پر پورا اترنا ہوگا۔

UAE: Legal action taken after social media account makes unverified health claims

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button