
خلیج اردو
راس الخیمہ میں ٹریفک تنازع کے دوران تین شامی خواتین کے قتل کے مقدمے میں عدالت کی جانب سے مرکزی ملزم کو قصاص کے تحت سزائے موت سنائے جانے کے بعد مقتولہ خاندان نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف ضرور ملا، لیکن ان کے پیارے کبھی واپس نہیں آ سکتے۔
مقتولہ خاتون کے بیٹے اور دو مقتول بہنوں کے بھائی محمود سالم وفائی نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے ان کے دل کو کچھ سکون ملا ہے، مگر ان کی والدہ اور بہنوں کی جدائی کا غم کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہمارے دل قدرے مطمئن ہیں، لیکن کوئی بھی فیصلہ ہمارے پیاروں کو واپس نہیں لا سکتا۔”
راس الخیمہ کی فوجداری عدالت نے 8 جولائی کو ایک عرب شہری کو 66 سالہ خاتون اور ان کی 36 اور 38 سالہ دو بیٹیوں کے منصوبہ بند قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے قصاص کے تحت سزائے موت سنائی۔ عدالت نے ملزم کو اقدامِ قتل اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے جرم میں بھی قصوروار قرار دیا۔
عدالتی فیصلے کے خلاف 15 روز کے اندر اپیل کی جا سکتی ہے، جبکہ سزائے موت پر عملدرآمد اسی صورت ممکن ہوگا جب اپیل کورٹ اور کورٹ آف کیسیشن بھی ابتدائی فیصلے کو برقرار رکھیں۔
محمود سالم وفائی نے کہا کہ وہ دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ عدالتی کارروائی میں شریک ہوئے اور متحدہ عرب امارات کی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ امارات میں قانون کی حکمرانی ہے اور حکام نے انصاف کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کی۔
ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد سے خاندان شدید ذہنی اور جذباتی اذیت سے گزر رہا تھا، تاہم عدالتی فیصلے نے ان کے دکھ میں کسی حد تک کمی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم تھا کہ متعدد متاثرین پر مشتمل مقدمات میں قانونی کارروائی مکمل ہونے میں وقت لگتا ہے، اس لیے وہ فیصلے کا انتظار کر رہے تھے۔
اسی مقدمے میں مرکزی ملزم کے بیٹے کو دھمکیاں دینے اور بدزبانی کے الزامات ثابت ہونے پر قید اور 10 ہزار درہم جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔
یہ افسوسناک واقعہ مئی 2025 میں راس الخیمہ میں پیش آیا تھا، جہاں ایک تنگ راستے سے گاڑی گزارنے کے تنازع پر جھگڑا شدت اختیار کر گیا۔ تحقیقات کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر آتشیں اسلحہ نکال کر فائرنگ کر دی، جس سے تین خواتین نشانہ بنیں۔
فائرنگ میں 36 اور 38 سالہ دو بہنیں جان کی بازی ہار گئیں جبکہ ان کی 47 سالہ بہن زخمی ہونے کے باوجود اپنے 11 سالہ بیٹے کو موبائل فون دے کر مدد طلب کرنے کی ہدایت دینے میں کامیاب رہیں، جس کے بعد پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔







