
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں پروفیشنل ریسلنگ کے شائقین ہلک ہوگن کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کر رہے ہیں۔ ریسلنگ کی دنیا کے اس عظیم نام کا 71 برس کی عمر میں جمعرات کے روز امریکہ کے ریاست فلوریڈا میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا۔ 1980 اور 1990 کی دہائی میں پروان چڑھنے والی نسل کیلئے ہلک ہوگن صرف ایک ریسلر نہیں بلکہ طاقت، ڈرامہ اور تفریح کی علامت تھے۔
شارجہ کے رہائشی 42 سالہ حیدر نے جذباتی انداز میں کہا، "وہ ہمارے بچپن کے ہیرو تھے۔ جس انداز میں وہ رنگ میں داخل ہوتے، وہ موسیقی، سرخ اور پیلی پٹی باندھ کر قمیض پھاڑنے کا منظر، ہر بار جسم میں جھرجھری پیدا کر دیتا تھا۔”
ہلک ہوگن، جن کا اصل نام ٹیری جین بولیا تھا، نے اپنی جاندار شخصیت اور 24 انچ کے بازوؤں کے ساتھ ریسلنگ کو عالمی شہرت دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی مقبولیت امریکہ سے نکل کر ایشیائی ممالک اور خاص طور پر متحدہ عرب امارات میں بھی چھا گئی۔
35 سالہ فہد شیخ، جو ارجان دبئی کے رہائشی ہیں، نے کہا کہ 90 کی دہائی میں ہر اتوار اور پیر کے دن دوست اور خاندان ایک ساتھ ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر ہلک ہوگن کو دیکھنے کا انتظار کرتے تھے۔ "اس وقت نہ انٹرنیٹ تھا نہ سوشل میڈیا۔ اسکول میں ہمارا ہر موضوع ہلک ہوگن ہوتا۔ ہم ان کے داؤ پیچ نقل کرنے کی کوشش کرتے لیکن احتیاط سے تاکہ کسی کو چوٹ نہ لگے۔”
فہد نے مزید بتایا کہ ریسلنگ دیکھنا ایک خاندانی رسم بن چکی تھی، "یاد ہے ایک پیر کے دن بارش کی وجہ سے اسکول بند ہو گیا تو عمارت کے تمام دوست ہمارے گھر آ گئے، ہم سب ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر ہلک ہوگن کا میچ دیکھ رہے تھے۔ وہ میرے بچپن کی سب سے خوشگوار یادوں میں سے ایک ہے۔”
مداحوں نے ہلک ہوگن کے مشہور لمحات بھی یاد کیے جیسے ریسل مینیا III میں آندرے دی جائنٹ کو باڈی سلیم کرنا یا 2002 میں دی راک کے ساتھ ان کا تاریخی مقابلہ۔
39 سالہ فلپائنی شہری خوزے فرانسیسکو، جو دبئی میں مقیم ہیں، نے بتایا کہ وہ فلپائن میں صبح کے اوقات میں صرف ہلک ہوگن کو دیکھنے کیلئے جاگتے تھے۔ "ہم کبھی کبھار اتوار کی چرچ سروس چھوڑ دیتے تاکہ ریسلنگ دیکھ سکیں۔ ایک بار تو میں نے جھوٹ بول کر بیمار ہونے کا بہانہ کیا تاکہ ہلک ہوگن کا میچ دیکھ سکوں۔ والدین بعد میں ناراض ہوئے لیکن وہ لمحہ قیمتی تھا۔”
خوزے نے اسکول کے ٹیلنٹ شو میں ہلک ہوگن کا روپ دھارنے کا واقعہ بھی شیئر کیا، "میں نے پیلے رنگ کا تولیہ سر پر باندھا اور پرانی قمیض پھاڑ کر اسٹیج پر آیا، اس دن مجھے سب سے زیادہ داد ملی۔”
ہلک ہوگن کو دو بار ڈبلیو ڈبلیو ای ہال آف فیم میں شامل کیا گیا اور انہیں ریسلنگ کی تاریخ کے سب سے بااثر ریسلرز میں شمار کیا جاتا ہے۔






