
خلیج اردو
09اکتوبر 2021
اسلام آباد : پاکستان مالی سال 2021-22 میں 32 بیلین ڈالر ترسیلات زر کے حصول کے قریب ہے۔ 30 لاکھ سے زائد بیرون ملک مقیم ملازمین نے 30 ستمبر کو ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی کے دوران ریکارڈ 8.04 بلین ڈالر ملک بھجوائے ہیں۔
پاکستان کے مرکزی بنک اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سمندرپار پاکستانیوں نے جولائی تا ستمبر سہ ماہی کے دوران گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 12.5 فیصد زیادہ رقم وطن بھیجی ہے۔ یہ ملک کی 75 سال کی تاریخ میں سب سے زیادہ کسی سہ ماہی میں بھجوائی گئی ترسیلات زر ہیں۔
ٹرسٹ سیکیورٹیز اینڈ بروکریج لمیٹڈ کے مطابق اگر پہلی سہ ماہی کے ترسیلات زر بھجوانے کا رجحان برقرار رہا تو پاکستان کی ترسیلات زر رواں مالی سال کے دوران 32 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
Remittances From Overseas Pakistanis#Remittances sent home by overseas #Pakistanis appreciated by 16.89% YoY to US$ 2,669.70 mn. On MoM basis, a rise of 0.46% was witnessed. Highest amount was once again remitted by Saudi Arabia. #economy #Pakistan #KSE100 pic.twitter.com/vJrVbw1q2g
— Capital Stake (@CapitalStake) October 8, 2021
کل ترسیلات زرد میں ان پاکستانیوں نے زیادہ ھصہ ڈالا جو متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں مقیم ہیں جنہون نے بالترتیب 1.55 بیلین ڈالر اور 2.03 بیلین ڈالر بھجوائے۔ امارات سے ترسیلات بھجوانے کی شرح میں سالہ نو فیصد جبکہ سعودیہ سے یہ شرح اس سہ ماہی میں تین فیصد کم ہوئی ہے۔
امریکہ اور برطانیہ سے آنے والے ترسیلات بالتریتیت بتیس فیصد اور تیرہ فیصد ہیں۔ پہلی سہ ماہی میں یورپی ممالک سے 889 بیلین ڈالر یعنی اڑتالیس فیصد زیادہ رہی جو پچھلی سال اسی سہ ماہی میں 601 ملین ڈالر تھی۔
Workers’ remittances recorded $2.7 bn in Sep21; up by 0.5% on m/m and 16.9% on y/y basis. Cumulatively, remittances reached to $8.0 bn in Q1-FY22; a significant growth of 12.5% over the same period last year: https://t.co/7XBd4uNES4 pic.twitter.com/7kegibXSHM
— SBP (@StateBank_Pak) October 8, 2021
پاکستان کی ہچکولے کھانے والی معیشت کو ان ترسیدلات زر نے سہارا دیا ہوا ہے اور جون 2020 کے بعد سے یہ تسلسل دیکھنے مین آیا ہے ۔ اسٹیٹ بنک کے مطابق جون 2020 کے بعد سات مہینوں کیلئے متواتر دو بیلین ڈالر سے زیادہ کی ترسیلات موصول ہورہی ہیں۔
مالی سال 2020-21 کے دوران پاکستان نے 29.4 بیلین ڈالر کی خطیر رقم ترسیلات زر کی مد میں حاصل کیے ہیں جبکہ یہ رقم مالی سال 2019-20 میں 23 بیلین ڈالر تھی۔
موجودہ مالی سال 2021-22 کیلئے حکومت کو ترسیلات زر میں 31 بیلین ڈالر کی توقع ہے۔
پاکستان کویت انویسٹمنٹ کے ریسرچ کے سربراہ سمیع اللہ طارق نے کہا ہے کہ پہلی سہ ماہی کے مضبوط اعداد و شمار کی وجہ سے اس سال ترسیلات زر کا ہدف 31 بلین ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔
انہوں نے ترسیلات زر میں اضافے کو حکومت اور مرکزی بینک کے حالیہ اقدامات اور دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے خلاف بڑھتی ہوئی آگاہی سے منسوب کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم ملازمین کی اکثریت اب سرکاری چینلز کے ذریعے رقم بھیجوانا پسند کرتی ہے۔
مسٹر طارق نے کہا کہ بیرون ملک سے پیسہ بھیجنے کے ڈیجیٹل ذرائع نے بھی ترسیلات زر بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
Honorable President @ArifAlvi and Governor #SBP @rezabaqir to grace an exclusive event on #RoshanDigitalAccount and #RoshanApnaGhar in Dubai on Oct 9, 2021. The event will be streamed live on SBP Facebook page at 3:30 PM (UAE) 4:30 PM (PKT) @ https://t.co/3SvaR9yXbJ pic.twitter.com/khqChL2lIM
— SBP (@StateBank_Pak) October 8, 2021
ایک اور تجزیہ کار نے بتایا کہ ملک کو رواں سال ریکارڈ 70 بلین ڈالر کی زرمبادلہ کی آمد متوقع ہے جس سے ادائیگی کے توازن اور روپے پر دباؤ کم ہو جائے گا جو جون 2021 سے اب تک 8.5 فیصد سے زائد کی کمی کا شکار ہے۔
گزشتہ روز مرکزی بینک نے کہا ہےکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے تحت مجموعی آمدنی ستمبر 2020 کے بعد سے 2.411 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ ان اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 13 ماہ کی مدت کے دوران 175 ممالک سے 248،723 اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں۔
Source : Khaleej Times







