
خلیج اردو
18 اپریل 2021
دبئی : خلیج ٹائمز سے ایک صارف نے پارٹ ٹائم نوکری سے متعلق سوال پوچھا ہے جس کا جواب مستند قانونی ماہر سے لیا گیا ہے۔ یہ سوال اور اس کا جواب ذیل میں دیا جارہا ہے جو قارئین کیلئے سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔
سوال : میں اس وقت دبئی مین ایک کمپنی میں فل ٹائم جاب کرتا ہوں۔ میں پارٹ ٹائم کام کرنے کا خواہاں ہوں۔ میں اس کیلئے کیا کروں؟ کیا مجھے اس کیلئے اسپیشل پرمٹ کی ضرورت ہوگی؟ اس حوالے سے قانونی امور بارے تفصیلات بتائیے۔
جواب : آپ کے سوال سے یہ اخز کیا جاتا ہے کہ آپ دبئی میں مقیم ایک کمپنی میں فل ٹائم ملازم ہوتے ہوئے پارٹ ٹائم کیلئے دوسری ملازمت کی تلاش میں ہیں۔ اس حوالے سے وزارت انسانی وسائل اور ایمریٹائزیشن کے 2018 کے فیصلے نمبر 3 کے تحت پارٹ ٹائم نوکری کا اطلاق ہوگا۔
کسی جگہ پارٹ ٹائم نوکری کیلئے مندرجہ زیل شرائط لازمی ہیں۔
فرد کو پہلے اپنے فل ٹائم نوکری کے باقاعدہ آجر سے اس پر اثر انداز ہونے کیلئے پہلے کسی اعتراض کی سند یا این او سی حاصل کرنا ہوگی اگر متعلقہ پارٹ ٹائم نوکری دینے والا آجر اس کی اسپانسرشپ کررہا ہو۔
نوکری کے متلاشی اس فرد کو پارٹ ٹائم آجر کے ساتھ تحریری معاہدہ کرنا ہوگا۔
اس پارٹ ٹائم آجر کو چاہیئے کہ وہ وزارت انسانی وسائل اور ایمریٹائزیشن سے اس پارٹ ٹائم ایمپلائی کیلئے سند حاصل کر سکے۔
پارٹ ٹائم معاہدہ کی شرائط کسی فرد کو پہلے پارٹ ٹائم آجر کیلئے دن میں آٹھ گھنٹے یا ہفتے میں 48 گھنٹے سے کم کام کرنے کی اجازت دے سکتی ہیں لیکن اس طرح کے اوقات کار ہفتے میں 20 گھنٹے سے کم نہیں ہوسکتے ہیں۔ یہ پارٹ ٹائم ایمپلائمنٹ قانون کے آرٹیکل 3 کے مطابق ہے
Source : Khaleej Times







