
خلیج اردو
دوحہ: اسرائیل کے جنگی جنون نے ایک اور اسلامی ملک کو نشانہ بنا ڈالا۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے ہیڈکوارٹر پر اسرائیلی فضائی حملے میں حماس رہنما خلیل الحیہ کے بیٹے، مینیجر عملے کے تین ارکان اور ایک قطری سیکیورٹی اہلکار سمیت چھ افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ تاہم حماس نے واضح کیا کہ خالد مشعل سمیت حماس کا کوئی مرکزی رہنما اس حملے میں شہید نہیں ہوا اور قیادت محفوظ رہی۔
حماس کے مطابق فضائی حملے کے وقت حماس کی قیادت کا اجلاس جاری تھا جس میں غزہ میں جنگ بندی سے متعلق امریکی صدر کی تجویز پر غور کیا جا رہا تھا۔ اسرائیل نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ مکمل طور پر اسرائیل کا خودمختار فیصلہ تھا اور اس میں کسی دوسرے ملک کا کوئی کردار نہیں تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ منصوبہ بندی اور کارروائی سب اسرائیل نے خود کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر پر اسرائیلی حملے سے اظہارِ لاتعلقی کرتے ہوئے کہا کہ یہ یکطرفہ کارروائی امریکا یا اسرائیل کے مقاصد کو آگے نہیں بڑھاتی۔ انہوں نے سینیٹر مارکو روبیو کو ہدایت دی کہ قطر کے ساتھ دفاعی تعاون معاہدے کو حتمی شکل دی جائے۔ ٹرمپ نے قطر کو امریکا کا قریبی اتحادی قرار دیا اور کہا کہ قطر امن قائم کرنے کی بہادری سے کوشش کر رہا ہے جبکہ حماس نے غزہ کے عوام کی بدحالی سے فائدہ اٹھایا۔
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے اسرائیلی حملے کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قطر اس واقعے کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ محض مذمتی بیانات پر اکتفا نہیں کیا جائے گا بلکہ عملی ردعمل دیا جائے گا۔ قطر نے اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے قانونی ٹیم بھی تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ قطری وزیراعظم نے کہا کہ یہ حملہ خطے کو انتشار اور افراتفری کی طرف دھکیل رہا ہے اور اسرائیل کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔







