
خلیج اردو
22 فروری 2021
دبئی : 2020 میں متحدہ عرب امارات کی سڑکیں زیادہ محفوظ ہو گئیں اور پاکستانی ڈرائیوروں کو اس حوالے سے ممتاز پایا گیا ہے کہ وہ کم سے کم ٹریفک حادثات کا موجب بنے ہیں۔ اس بات کا انکشاف لاکمپیر کے انشورنس کمپیریزن پلیٹ فارم کی جانب سے حالیہ ایک سروے میں ہوا۔
صارفین کی شہریت کی بنیاد پر موصول ہونے والے اعداد و شمار کی جب جانچ پڑتال کی گئی تو یہ انکشاف ہوا کہ پاکستانی ڈرائیور بہترین ڈرائیور ہیں اور ان ڈرائیورز نے پچھلے 12 مہینوں میں صرف 2.5 فیصد انشورنس کلیم کیے ۔
دوسرے نمبر پر آنے والے لبان کے ڈرائیورز ہیں جنہوں نے 3.2 فیصد کلیم کیے جبکہ تیسرا ، چوتھا اور پانچواں پوزیشن بالترتیب فلپائنوس ، شامی اور اردنیائی باشندوں نے لیا۔
یلا کامپیر کے سی ایف او جوناتھن راولنگ کا کہنا ہے کہ یہ جاننا دلچسپ بات ہے کہ ہمارے صارف کے اعداد و شمار کے مطابق ، انشورنس کا دعوے کرنے کے نقطہ نظر سے 2020 میں پاکستانی ڈرائیور متحدہ عرب امارات میں سب سے بہترین تھے۔
2020 میں یلاکمپیر کے صرف 3.8 فیصد صارفین نے اعلان کیا کہ انہوں نے 2019 میں آٹھ فیصد کے مقابلے میں پچھلے 12 مہینوں میں اپنی کار انشورنس پر دعویٰ کیا ہے۔
انشورنس پالیسی کے خریداروں کو یہ بات سمجھنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ جب آپ انشورنس کلیم کرتے ہیں اس کا درست ہونا لازمی ہے کیونکہ جب آپ کلیم کے وقت کچھ بھی غلط معلومات دیتے ہیں تو آپ کی رقم بالکل ضائع بھی ہو سکتی ہے۔
انشورنس کلیم کی تعداد میں کمی کی ایک وجہ گزشتہ سال لاک ڈاؤن کی وجہ سے مختلف سرگرمیوں میں کمی بھی ہو سکتی ہے ۔
جوناتھن راولنگ کے مطابق انشورنس کلیم میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے نقل و حرکت میں کمی ہوئی اور اس کی وجہ سے حادثات بھی کم ہوئے جو انشورنس کلیم کی تعداد میں ایک بڑی وجہ ہے۔
یہ ڈیٹا انشورنس کمپنیوں کے ذریعہ پریمیم کی قیمت کا حساب کتاب کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی قانونی لحاظ سے اجازت موجود ہے جو صارفین نے کمپنیوں کو دی ہوتی ہے۔
Source : Khaleej Times







