متحدہ عرب امارات

ماہ رمضان شروع ہونے میں تین ہفتے باقی، درج ذیل کورونا ایس او پیز پر عمل کریں اور ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں

خلیجج اردو آن لائن:

تین ہفتوں میں عالم اسلام رمضان المبارک کے مقدس مہینے کا آغاز کرے گا جو کوڈ 19 وبائی امراض کی وجہ سے پیدا ہونے والے غیر معمولی حالات کے درمیان آنے والا دوسرا رمضان ہوگا

وائرس کے  بارے میں بڑھتے ہوئے علم اور آگاہی کے باوجود ماہ مقدس کی خصوصی نوعیت کے مد نظر انفرادی ذمہ داری کا احساس رکھنے اور احتیاطی تدابیر پر پوری طرح عمل پیرا ہونے کی اہمیت کا اعادہ کرنے کی ضرورت ہے۔

بہت سے عرب ممالک کو اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کے سرکاری انتباہ کے باوجود انفیکشن میں اضافہ اور خاص طور پر بہت سے ممالک میں اموات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں حالیہ ہفتوں میں انفیکشن کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے 21 مارچ کو انفیکشن کی کل تعداد 3 فروری 2020 کو بلند ترین سطح کے مقابلہ میں 56.8 فیصد کم ہوگئی ہے۔

کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے میں ملک نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کامیابیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے متحدہ عرب امارات نے متعدد احتیاطی تدابیر اختیار کیں جن کا مقصد عوامی صحت کی حفاظت اور مقدس مہینے کے دوران کورونا کے پھیلاؤ کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے

ان متعلقہ اقدامات کا مقصد عبادت سے متعلقہ سرگرمیوں کو ایڈجسٹ کرنا ہے۔ جس میں دعائیں، افطار کے اجتماعات اور زکوٰۃ و عطیات جمع کرنا نیز معاشرتی تقریبات اور اجتماعات شامل ہیں۔

مزید برآں ، قومی کوویڈ -19 ویکسی نیشن مہم نے رواں ماہ کے اختتام سے قبل 16 سال سے زیادہ عمر کی نصف آبادی کو ویکسین پلانے کا اپنا مقصد حاصل کرلیا ہے۔ منگل کے روز ، متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا کہ 52.46 فیصد افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے 16 مارچ کو منعقدہ میڈیا بریفنگ کے دوران ، نیشنل ایمرجنسی ، کرائسس اینڈ ڈیزاسٹرز مینجمنٹ اتھارٹی (این سی ای ایم اے) نے رمضان کے مقدس مہینے کے دوران احتیاطی تدابیر کا اعلان کیا تھا۔ جس کا مقصد اس وائرس پر قابو پانے اور اس میں کمی لانے میں ملک کی کامیابیوں کا تحفظ کرنا ہے۔

ان اقدامات میں خاندانی اور کاروباری افطاری خیموں اور عوامی علاقوں میں اجتماعات کی ممانعت کے علاوہ مکانات اور مساجد کے سامنے افطار کے کھانوں کی تقسیم پر پابندی بھی شامل ہے۔

این سی ای ایم اے نے نوٹ کیا کہ کھانے کی تقسیم میں مدد کے خواہاں افراد کو چیریٹی حکام سے رابطہ کرنا چاہئے انہوں نے مزید کہا کہ زکوٰۃ کا عطیہ الیکٹرانک طور پر ادا کیا جانا چاہئے۔

اس کے علاوہ ہوٹلوں اور ریستورانوں کو بھی افطار کے کھانے تقسیم کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

مزید برآں، این سی ایم اے کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ تمام مساجد میں عشاء اور تراویح کی نماز 30 منٹ تک محدود ہوگی اور اس دوران کورونا کے پھیلاؤ سے متعلق تمام قواعد و ضوابط پر عمل کر نا ہوگا۔

ہمیں بطور ذمہ دار شہری اور رہائشی ہونے کے ماہ مقدس کے دوران ان قواعد و ضوابط پر عمل کر کے کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے میں حکام کی مدد کرنی ہوگی۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button