خلیج اردو آن لائن:
شارجہ میونسپلٹٰی کی جانب سے جمعرات کے روز اعلان کیا گیا ہے کہ رہائشی علاقوں سے مزدوروں اور کنواروں کو نکالنے کی مہم کے دوران ابتک 6 ہزار 5 سو سے زائد غیر شادی شدہ افراد کو رہائشی علاقوں سے نکال لیا دیا گیا ہے۔
شارجہ بلدیہ کے ڈائریکٹر جنرل تحبط الطریفی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اس مہم کے دوران 6 ہزار 561 ورکروں اور غیر شادی شدہ افراد سے خالی کروا لیا گیا ہے۔
الطریفی کا کہنا تھا کہ اس مہم کے دوران شارجہ بلدیہ نے "فیملیز کے لیے مخصوص رہائشی علاقوں سے مزدوروں اور غیر شادی شدہ افراد کو نکالنے کے لیے انسپیکشن کے دوران شارجہ شہر کے مختلف علاقوں میں 1ہزار 636 چھاپے مارے”۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس مہم کے دوران ایسی گھروں اور عمارتوں بجلی کے کنیکشن منقطع کر دیا گئے ہیں جہاں غیر تصدیق شدہ کنیکشن لگے ہوئے تھے۔
انکا مزید بتایا تھا کہ مہم کے دوران بیشتر گھروں میں غیر قانونی ورکشاپس اور کھانے پینے کی اشیاء کے اسٹور بھی سامنے آئے ہیں ۔
شارجہ بلدیہ نے اس عزم کا اظہار بھی کیا ہے کہ وہ شارجہ پولیس کے واٹر اتھارٹی کے ساتھ مل کے اس مہم کو مسلسل جاری رکھے گی۔
یہ مہم کیوں اور کب شروع ہوئی؟
اس مہم کا فیصلہ ایک خاتون کی جانب سے 27 ستمبر بروز اتوار کے روز شارجہ کے ٹی وی اور ریڈیو کو کی گئی ایک کال کے بعد کیا گیا۔ خاتون نے کال کے دوران رہائشی علاقوں میں مزدوروں اور کنواروں کی علاقے میں موجودگی کے حوالے سے شکایت کی تھی۔
شکایت کنندہ خاتون کا کہنا تھا کہ اسے علاقے میں کنوارے افراد اور مزدوروں کی تعداد بڑھ رہی ہے جس کے باعث وہ خود کو اپنے بچوں کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہے۔
جس کے فوری بعد ڈاکٹر شیخ سلطان نے شارجہ میونسپلٹی اور شارجہ پولیس کو علاقہ کنواروں اور مزدوروں سے خالی کروانے کا حکم جاری کیا تھا۔
اس حکم کے بعد شارجہ میونسپلٹٰی نے پولیس کے ساتھ مل کر علاقے کا معائنہ شروع کر دیا ہے اور مختلف گھروں کو نوٹس جاری کرنے شروع کر دیے ہیں۔
Source: Gulf News







