متحدہ عرب امارات

گرمیوں کی تعطیلات میں ذہنی صحت کیسے برقرار رکھی جائے؟ ماہر نفسیات کی اہم ہدایات

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک معروف نیورو سائیکالوجسٹ نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر خوبصورت چھٹیوں کی تصویریں دیکھنے، مستقل خبریں پڑھنے اور سفر کے دوران پیدا ہونے والی بے ترتیبی دماغی تناؤ، اضطراب اور نیند کی خرابی کا سبب بن سکتی ہیں۔

ڈاکٹر الیگزاندر میکاڈو، جو کلینیکل نیورو سائیکالوجسٹ ہیں، کا کہنا ہے کہ گرمیوں کو ہم عموماً سکون اور خوشی کا موسم سمجھتے ہیں لیکن اصل میں یہی سیزن دماغی دباؤ کو بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر ایسے خطے میں جہاں سیکیورٹی خدشات پہلے ہی موجود ہوں۔

انہوں نے کہا کہ "ڈیجیٹل اسکرینز سے مستقل رابطہ دماغ کے انعامی نظام کو حد سے زیادہ فعال کر دیتا ہے، جس سے لت کی صورت اختیار کرنے والے رویے جنم لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر مثالی اور خوشنما زندگی کی نمائش سے احساس کمتری، حسد اور خود اعتمادی میں کمی واقع ہوتی ہے۔”

نیوز فیڈز اور سوشل میڈیا پر مسلسل مصروف رہنا نیند، توجہ اور جذباتی توازن پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ وہ خبروں کے اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "افسوسناک خبریں انسانی دماغ کے ایمیگڈالا حصے کو فعال کر دیتی ہیں، جس سے جذباتی دباؤ میں اضافہ اور اضطراب پیدا ہوتا ہے، چاہے انسان چھٹیوں پر ہی کیوں نہ ہو۔”

سفر بھی ہمیشہ سکون نہیں لاتا
ڈاکٹر میکاڈو نے بتایا کہ اگرچہ سفر دماغی صحت کے لیے مفید ہو سکتا ہے، لیکن یہ بعض اوقات ذہنی دباؤ کا بھی باعث بنتا ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جو پہلے ہی ذہنی امراض کا شکار ہوں۔ جیٹ لیگ، اجنبی ماحول اور غیر متوقع تاخیر دماغ کے نظم و ضبط اور نیند کے نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی سے متعلق پس پردہ خدشات بھی مستقل اضطراب یا جذباتی بےحسی پیدا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے خدشات کو جرنل لکھنے یا تھراپی کے ذریعے شعور میں لایا جا سکتا ہے، جبکہ گہرے سانس لینا اور پٹھوں کو آرام دینا جیسے طریقے بھی دماغی توازن کی بحالی میں مددگار ہوتے ہیں۔

بچے بھی متاثر ہوتے ہیں
ماہر نفسیات کے مطابق صرف بالغ ہی نہیں بلکہ بچے بھی گرمیوں کی چھٹیوں میں ذہنی بے ترتیبی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ روٹین کی کمی ان کے جذباتی نظم و ضبط پر اثر ڈالتی ہے، جس سے چڑچڑاپن، الٹے سیدھے رویے اور علیحدگی کا خوف سامنے آ سکتا ہے۔ والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کے لیے نرمی پر مبنی لیکن مستحکم روزمرہ نظام قائم کریں، سکرین کے استعمال کو محدود کریں اور بچوں کو باہر کھیلنے اور میل جول کی ترغیب دیں۔

ذہنی سکون کے لیے مفید تجاویز

  • خبروں اور سوشل میڈیا سے دوری اختیار کریں، خاص طور پر رات کے وقت۔

  • سونے کے کمرے کو ٹھنڈا، اندھیرا اور پر سکون رکھیں تاکہ قدرتی نیند ممکن ہو۔

  • سفر کو صرف تفریح نہیں بلکہ خود احتسابی کے موقع کے طور پر لیں۔

  • خوف یا دباؤ پر کھل کر بات کریں، خاص طور پر بچوں کے ساتھ۔

  • سونے سے پہلے موبائل دیکھنے کے بجائے دھیان کی مشق یا پر سکون موسیقی سنیں۔

ڈاکٹر میکاڈو نے اختتام پر کہا: "گرمیوں کا مقصد دماغی اور جذباتی سکون حاصل کرنا ہے، لیکن اس کے لیے محض منظر کی تبدیلی نہیں بلکہ شعوری نفسیاتی کوشش بھی ضروری ہے

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button