
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں طلبہ کے لیے گرمیوں کی تعطیلات آرام اور تفریح کا موقع ہوتی ہیں، لیکن ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اساتذہ کے لیے یہ دورانیہ درحقیقت نئے تعلیمی سال کی تیاری، نصاب کی منصوبہ بندی اور پیشہ ورانہ تربیت میں گزرتا ہے۔
تعلیمی ادارے Taaleem کی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن ریبیکا گرے کے مطابق عام تاثر کے برعکس اساتذہ کو اسکول کی تعطیلات جتنی طویل چھٹیاں نہیں ملتیں، کیونکہ ہر تعطیل سے پہلے اور بعد کا بڑا حصہ تدریسی منصوبہ بندی، نصاب کی تیاری اور دیگر پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں صرف ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گرمیوں کی تعطیلات کے دوران اساتذہ طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں، نئے اسباق کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، تربیتی پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں، جبکہ اسکول انتظامیہ نئی بھرتیوں، اسٹریٹجک منصوبہ بندی، حفاظتی انتظامات اور کیمپس کی تیاری جیسے امور انجام دیتی ہے۔
Indian High Group of Schools کے چیف ایگزیکٹو پنیت ایم کے واسو نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ اساتذہ اسکول بند ہوتے ہی ساحل سمندر پر چھٹیاں منانے چلے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق تدریس ان چند پیشوں میں شامل ہے جہاں کام دفتر تک محدود نہیں رہتا بلکہ اساتذہ اپنے گھروں میں بھی اسباق کی تیاری، امتحانی پرچوں کی جانچ، ورک شیٹس بنانے اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے پر وقت صرف کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک تعلیمی سال کے تقریباً 44 ہفتوں کے مسلسل دباؤ، سخت نگرانی، کلاس روم کے معیار، اور KHDA کے باقاعدہ اسکول معائنوں کے باعث اساتذہ پر ذمہ داریوں کا بوجھ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔
واسُو کے مطابق بہت سے اساتذہ تعطیلات کے دوران بھی روزانہ ایک سے دو گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت تعلیمی منصوبہ بندی، طلبہ کے جائزوں اور نصاب کی تیاری پر رضاکارانہ طور پر صرف کرتے ہیں۔
دوسری جانب Woodlem Education کے بانی اور منیجنگ ڈائریکٹر نوفل احمد کا کہنا ہے کہ گرمیوں کی تعطیلات اساتذہ کی ذہنی اور جسمانی بحالی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ان کے مطابق ان کے ادارے میں اس عرصے کے دوران اساتذہ کو معمول کی تدریسی یا انتظامی ذمہ داریاں نہیں دی جاتیں تاکہ وہ خاندان کے ساتھ وقت گزار سکیں، آرام کریں اور نئی توانائی کے ساتھ تعلیمی سال کا آغاز کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران اساتذہ کو اپنی سہولت کے مطابق پیشہ ورانہ تربیتی کورسز کرنے کی ترغیب ضرور دی جاتی ہے، کیونکہ تازہ دم اور پُرجوش اساتذہ ہی طلبہ کے لیے بہتر تعلیمی ماحول فراہم کر سکتے ہیں۔







